تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 251
243 فتنہ انکار خلافت کا تفصیلی پس منظر نہیں دے گا۔خصوصاً ایک شخص جو مولوی کہلا کر قبول الہامات کے بارے میں سب سے کچا ثابت ہو گا۔چہارم۔اس فتنہ میں لاہور کے کسی بے شرم کا بہت بڑا دخل ہو گا۔جہاں سے جھوٹ اور فریب پھیلایا جائے گا۔اس وقت جماعت کے سامنے امتحان کی طرح بعض سوالات رکھے جائیں گے جن میں بعض پکڑے جائیں گے اور بعض چھوڑ دئے جائیں گے۔پنجم۔فتنہ پرداز لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت کے خلاف ہوں گے۔حالانکہ خداتعالی کے نزدیک حضور کے اہل بیت مطہر ہوں گے۔یعنی انہی کا مسلک صحیح ہو گا۔ششم۔فتنہ پرداز عصر اپنے قول و فعل میں مصلحت وقت کو حقیقت و صداقت پر قربان کر دے ہفتم۔اس عصر کو عبدالحکیم مرتد پٹیالوی کے نظریات سے موافقت کی وجہ سے ابتلا آئے گا اور حکم کردہ راہ ہو جائیں گے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جماعت میں اٹھنے والے اس فتنہ کی فقط تفصیلات ہی نہیں بتائی گئیں بلکہ اس کے علمبرداروں کی نشان دہی بھی کر دی گئی تھی چنانچہ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کا بیان ہے کہ حضور علیہ السلام نے اس زمانہ میں جب کہ "وطن" اور ریویو کا جھگڑا ہو رہا تھا۔اور خواجہ صاحب ریویو کو " وطن " پر قربان کرنے پر تلے ہوئے تھے۔مولوی محمد علی صاحب کو چھوٹی مسجد (یعنی مسجد مبارک۔ناقل ) میں تشریف لا کر فرمایا کہ خواجہ صاحب کو خط لکھ دو کہ وہ بہت توجہ و استغفار کریں اور قربانی بھی دیں۔مجھے ان کی نسبت سخت منذر رویا ہوئے ہیں جس سے ان کے ایمان کا بھی خطرہ ہے۔اور پھر حضور علیہ السلام نے ایک رویا لکھوایا بھی جو یہ تھا کہ ” میں نے دیکھا ہے کہ میں اور مولوی نور الدین صاحب اس مسجد میں ایک تخت پر بیٹھے ہیں اور خواجہ بدن سے نگا پاگلانہ صورت میں ادھر آیا۔اور آتے ہی ہم دونوں پر حملہ کرنے لگا۔ہمارے پاس اس وقت حافظ حامد علی تھا۔میں نے اس کو کہا کہ اس کو نکال دو۔وہ نکالنے لگا تو خواجہ خودہی زینہ سے اتر کر نیچے چلا گیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی محمد علی صاحب سے لکھوا کر خط بھیجوایا۔اور ساتھ ہی فرمایا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ مسجد سے مراد امام کی جماعت ہوتی ہے۔پس مجھے اس کا بہت اندیشہ ہوا۔اس کو بہت تو بہ کرنی چاہئے۔یہ خط مولوی محمد علی صاحب نے اپنے قلم سے حضور علیہ السلام کے حکم سے لکھ کر خواجہ f صاحب کو پہنچایا " - ۱۳