تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 2 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 2

2 حضرت خلیفہ اول اور آپ کا عمد والد صاحب گھر سے روانہ ہوئے۔خاکسار بھی ہمراہ تھا رستے میں چوہدری صاحب کے مکان پر رک کر چوہدری صاحب کو آواز دی۔انہوں نے دوسری منزل پر سے اپنی کھڑ کی کھول کر کہا۔میرے دل کو ابھی اطمینان نہیں اس لئے میں آپ کے ہمراہ نہیں جا سکتا۔چنانچہ والد صاحب گئے اور بعد نماز فجر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی خدمت اقدس میں گزارش ارسال کی کہ بیعت کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ حضور اقدس نے اپنی جائے قیام پر فخربار یا بی بخشا اور والد صاحب نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کی۔خاکسار بھی موجود تھا۔اور جماعت سیالکوٹ کے چند بزرگ بھی موجود تھے۔اس کے بعد والد صاحب کا معمول تھا کہ ستمبر کی تعطیلات میں اور جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان حاضر ہوا کرتے تھے اور خاکسار کو بھی ہمراہ لے جاتے تھے۔ان ایام میں خاکسار کو حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے۔مثنوی مولانا روم کے درس میں جو آپ اپنے مطب میں قبل دو پہر دیا کرتے تھے شامل ہونے اور قرآن کریم کے درس میں جو بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں ہوا کر تا تھا۔شامل ہونے کا فخر حاصل ہو تا رہتا تھا۔اور بعض نصائح جو ان دنوں خاکسار نے سنیں وہ اب تک یاد میں محفوظ ہیں۔آپ قبل دو پہر احمد یہ چوک کے شمال مشرقی کونے میں ایک لمبے دالان کے ایک حصے میں مطلب کیا کرتے تھے۔اور مثنوی مولانا روم کا درس دیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معمول تھا کہ حضور دس بجے کے قریب سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔اور حضرت مولوی صاحب سیر میں حضور کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے۔آپ نے ایک خادم کو مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ حضور کے دروازے کے باہر کھڑا رہے اور جونہی حضور دروازے کے باہر قدم رنجہ فرمائیں۔جلدی سے آپ کو مطب میں پہنچ کر اطلاع کر دے۔جیسے ہی یہ خادم دالان کے دروازے پر پہنچتے ہی اطلاع کر تا حضور تشریف لے آئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب دالان کے دو سرے سرے پر فور اجو فقرہ منہ میں ہوتا وہیں ادھورا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوتے اور دستار سنبھالتے اور پاپوش گھسیٹتے ہوئے دروازے کی طرف لپک پڑتے کہ جلد سے جلد حضور کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔حضور کی مجلس میں آپ نہایت مودبانہ سر جھکائے خاموش بیٹھے رہتے۔صرف حضور کے مخاطب فرمانے پر سر اٹھاتے اور حضور کے مبارک چہرے کی طرف نگہ اٹھا کر نہایت ادب کے لہجے میں " جواب عرض کر دیتے۔اپریل ۱۹۰۷ ء میں خاکسار نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا۔اور والد صاحب نے خاکسار کو گورنمنٹ کالج لاہور میں مزید تعلیم کے لئے بھیج دیا۔گرمیوں کی تعطیلات میں خاکسار گھر آیا ہوا تھا ان دنوں