تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 1
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 1 حضرت خلیفہ اول اور آپ کا عہد خلافت بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبده المسيح الموعود سیدی حضرت خلیفۃ المسیح اول اور آپ کا عہد خلافت از قلم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب سابق صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ) خاکسار کو حضرت خلیفۃ المسیح اول کی زیارت کا شرف اول مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کی ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف آوری کے موقعہ پر حاصل ہوا۔والد صاحب مرحوم کو تو پہلے سے شرف نیاز حاصل تھا۔گو والد صاحب نے ابھی بیعت نہیں کی تھی۔دل میں فیصلہ کر چکے تھے۔ان کے ایک ہم پیشہ چوہدری محمد امین صاحب کو بھی حسن ظن تھا اور والد صاحب کی خواہش تھی کہ اگر وہ بھی بیعت کا فیصلہ کرلیں تو دونوں ایک ہی وقت میں سلسلہ میں شامل ہو جائیں۔چوہدری محمد امین صاحب کی پوری تسلی کے لئے یہ طے ہوا کہ دونوں صاحب نماز مغرب کے بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں اور چوہدری محمد امین صاحب حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں اپنے سوال پیش کر کے اپنے شبہات کا ازالہ کرلیں۔چنانچہ یہ مجلس تین چار روز تک جاری رہی۔خاکسار بھی ان دونوں بزرگوں کے ہمراہ حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو تا رہا۔خاکسار کی عمر اس وقت ساڑھے گیارہ سال تھی اور اس واقعہ پر اب ساٹھ سال گزرنے کو ہیں اس لئے اول تو خاکسار اس وقت بھی اس گفتگو کے موضوع کو اپنے ذہن سے بالا تصور کرتا تھا اور دوسرے اگر کوئی تفصیل اس کی ذہن میں آئی بھی تو افسوس ہے کہ اب وہ محفوظ نہیں رہی۔فقط اتنا یاد ہے کہ آخری مجلس سے واپسی پر والد صاحب نے چوہدری محمد امین صاحب سے دریافت کیا۔اب آپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے کہا میرے اعتراضات کا جواب تو آگیا ہے۔والد صاحب نے کہا پھر کل بیعت کرلیں؟ چوہدری صاحب نے کہا۔اچھی بات صبح جب آپ بیعت کے لئے حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوں۔تو مجھے بھی ساتھ لیتے چلیں۔دوسری صبح نماز فجر سے قبل ہی