تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 3 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 3

3 حضرت خلیفہ اول اور آپ کا عہد خلافت حضرت مولوی صاحب کا ایک کارڈ والد صاحب کے نام آیا۔جس کا مضمون بس اتنا ہی تھا۔اب آپ اپنے بچے کی بیعت کرا دیں۔اس سے خاکسار کو یہ احساس ہوا کہ حضرت مولوی صاحب خاکسار کو پہچانتے ہیں۔ستمبر میں جب خاکسار والد صاحب کے ہمراہ قادیان گیا تو کچھ عرصہ تو اس انتظار میں رہا کہ والد صاحب بیعت کے متعلق کچھ ارشاد فرما ئیں لیکن جب مہینے کا وسط آگیا اوروالد صاحب نے کچھ نہ فرمایا تو خاکسار نے خود ہی ۱۶ / ستمبر 1906 ء بعد نماز ظہر مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کر لیا۔فالحمد لله على ذالک - یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل تھا کہ حضرت مولوی صاحب کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ وہ والد صاحب کو اس ناچیز کی بیعت کے متعلق یاد دہانی فرما ئیں اور اگرچہ والد صاحب نے اس بارے میں خاکسار کو کوئی ارشاد نہیں فرمایا۔لیکن خاکسار نے حضرت مولوی صاحب کا کارڈ پڑھ لیا تھا اور آپ کی یہ توجہ خا۔۔کے متعلق اس امر کا موجب ہوئی کہ خاکسار کو ستمبر ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔دل سے تو خاکسار اس لحظہ سے ہی حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی غلامی میں داخل ہو چکا تھا جب کمال خوش قسمتی سے ۱۳ ستمبر ۱۹۰۴ء کے دن لیکچر لاہور کے موقعہ پر خاکسار کو حضور کا دیدار اول مرتبہ نصیب ہو ا تھا۔لیکن اگر حضرت مولوی صاحب کی توجہ نہ ہوتی تو قیاس یہی ہے کہ خاکسار کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل نہ ہوتی۔اور خاکساران برکات سے محروم رہتا جو اس ذاتی عہد و پیمان کے ساتھ وابستہ تھیں۔کیونکہ ستمبر ۱۹۰۷ء میں خاکسار کی عمر ابھی ساڑھے چودہ سال تھی اور مئی ۱۹۰۸ ء میں مشیت ایزدی کے مطابق حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال وقوع میں آیا۔حضرت مولوی صاحب کا یہ ایک احسان عظیم خاکسار پر ہوا اور پھر اس کے بعد تو ایک لمبا سلسلہ شفقت و رافت اور ذرہ نوازیوں کا شروع ہو گیا۔جو آپ کے وصال تک ہیم جاری رہا۔۲۶ / مئی ۱۹۰۸ء کے قیامت خیز روحانی زلزلے کے دن خاکسار لاہور میں موجود تھا اور حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے جنازے کے ہمراہ قادیان حاضر ہونے کی سعادت میں شریک ہوا۔اندازہ ہے کہ بعض احباب نے لاہور سے بٹالہ تک کا وہ غم ناک سفر دوسرے درجے میں طے کیا۔لیکن یہ خوب یاد ہے کہ حضرت مولوی صاحب ہم سب کے ساتھ تیسرے درجے میں تشریف فرما تھے اور آپ کی موجودگی ہمارے لئے بہت ڈھارس کا موجب تھی۔اکثر حصہ سفر آپ سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے اور دعاؤں اور ذکر الہی میں یہ عرصہ صرف ہوا۔امرت سر پہنچنے پر آپ نے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہی مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھا ئیں۔دوسرے دن صبح طلوع آفتاب پر تھوڑا ہی وقت گزرنے پر یہ