تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 155
تاریخ احمدیت جلد ۳ 151 آغاز اجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک آرید نہ برہمو نہ یہود نہ عیسائی یہ ایسا حربہ ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی قوم نہیں کر سکتی۔حضرت مسیح موعود کی شان میں عربی مضمون اور عربی قصیده۔اگست ۶۱۸۹۳ میں حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں فصیح و بلیغ عربی میں ایک مضمون اور قصیده رقم فرمایا۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب "کرامات الصادقین " لکھ رہے تھے آپ نے اس کے آخر میں ان کو بھی ساتھ ہی شائع فرما دیا۔آپ کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ جب میں نے موجودہ زمانہ کے مفاسد دیکھے تو میں مجد والزمان کی تلاش میں بیت اللہ شریف تک پہنچا۔اس مقدس سرزمین میں کئی بزرگوں کو زہدو تقویٰ میں بہت بڑھا ہوا پایا۔مگر ان میں سے کسی کو بھی مخالفین اسلام کے مقابلہ کی طرف توجہ نہ تھی حالانکہ میں خود ہندوستان میں دیکھ چکا تھا کہ لاکھوں طلبہ علوم دین چھوڑ کر اس کے مقابل انگریزی علوم کو ترجیح دے رہے ہیں۔کروڑوں کتابیں دشمنان اسلام کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں شائع ہو چکی تھیں۔میں کسی صادق کی آواز کا منتظر تھا کہ ناگاہ حضرت مولف براہین احمدیه (مهدی الزمان و مسیح دوران) کی بشارت پہنچی پس میں حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی فراست سے معلوم کر لیا کہ آپ ہی موعود اور حکم عدل ہیں اور آپ ہی کو خدا نے تجدید امت کے مقام پر کھڑا کیا ہے اور اس پر میں نے خدا کی آواز پر لبیک کسی اور اس کے اس احسان عظیم پر سجدات شکر بجالایا اور آپ کے غلاموں میں شامل ہو گیا۔آپ کے لکھے ہوئے شعر کا عربی قصیدہ کا ابتدائی شعر یہ ہے۔فو الله من لاقيته زادني الهدى و عرفت من تفهيم أحفدا احمدا خدا کی قسم جب سے میں نے آپ کی ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے میرا ایمان بڑھ گیا ہے او ر احمد (ہندی) کی تقسیم سے میں نے احمد ( عربی ) ا کی معرفت حاصل کرلی ہے۔اشتہار التوائے جلسہ " میں ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۳ء کے سالانہ تعریف میں یہ تحریر فرمایا جلسہ کے التوا کا اشتہار دیا جس میں حضور نے آپ کی ابھی تک میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا ہوں عجر د ایک مختصر گروہ رفیقوں کے جو دو سو سے کسی قدر زیادہ ہیں۔۔۔جن میں سے اول درجہ پر میرے خالص دوست اور محب مولوی حکیم نورالدین صاحب