تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 156
تاریخ احمدیت جلد ۳ 152 آغاز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک اور چند اور دوست ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ صرف خدا تعالی کے لئے میرے ساتھ محبت رکھتے ہیں اور میری باتوں اور نصیحتوں کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی آخرت پر نظر ہے۔سودہ انشاء اللہ دونوں جہانوں میں میرے ساتھ ہیں اور میں ان کے ساتھ ہوں"۔۱۸۹۵ء کے قریب (جب کہ مفتی محمد صادق صاحب جموں میں ہی ملازم تھے) حضرت سفر جموں مولوی نور الدین صاحب ریاست جموں کے بعض ارکان کی پر زور دعوت پر چند روز کے لئے جموں تشریف لے گئے وہاں مہاراجہ جموں نے اعتراف کیا کہ آپ پر بہت ظلم ہوا ہے اور معافی چاہی آپ نے فرمایا یہ تو خدا تعالی کا گناہ ہے خدا تعالی کا گناہ خدا تعالی ہی معاف فرما سکتا ہے بندے کی کیا طاقت ہے۔مہاراجہ نے آپ سے خواہش کی کہ ریاست میں پھر ملازمت کر لیں مگر چونکہ اس امر کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی اجازت نہ تھی اس لئے آپ صاف انکار کر کے واپس چلے آئے۔حضرت مسیح ناصری کی قبر کا انکشاف خلیفہ نور الدین صاحب جونی کا بیان ہے کہ " ایک قبر دفعہ میں محلہ خانیار (سری نگر) سے گذر رہا تھا کہ ایک قبر پر میں نے ایک بوڑھے اور بڑھیا کو بیٹھے دیکھا میں نے ان سے پوچھا یہ کس کی قبر ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ”نبی صاحب" کی ہے۔اور یہ قبریوز آسف شہزادہ نبی اور پیغمبر صاحب کی قبر مشہور تھی۔میں نے کہا یہاں نبی کہاں سے آگیا۔تو انہوں نے کہا یہ نبی دور سے آیا تھا اور کئی سو سال قبل سے آیا تھا۔۔۔۔میں نے یہ تذکرہ حضرت مولوی صاحب سے کیا اس واقعہ کو ایک عرصہ گذر گیا۔اور جب مولوی صاحب ملازمت چھوڑ کر قادیان تشریف لے گئے تو حضرت مسیح موعود کی مجلس میں جس میں حضرت مولوی صاحب بھی موجود تھے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ مجھے اوپناهما الى ربوة ذات قرار و معین سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعی حضرت عیسی علیہ السلام کسی ایسے مقام کی طرف گئے جیسے کہ کشمیر۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے خانیار کی قبر والے واقعہ کے متعلق میری روایت بیان کی۔حضور نے مجھے بلایا اور اس کے متعلق تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔" ft رائے بریلی کے ایک صاحب نئے ترجمہ قرآن کی ضرورت اور اس کے اصول مولوی ریاض احمد صاحب نے پیسہ اخبار میں (وسط ۱۸۹۵ء کے قریب ایک نئے ترجمہ قرآن کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی تھی۔اور ایک خط بھی حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں لکھا۔حضرت مولوی صاحب نے ۱۳/ ستمبر ۱۸۹۵ء کو ضرورت ترجمہ کی تائید کرتے ہوئے ایک مفصل خط لکھا جس میں آپ نے بڑی تفصیل سے