تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 154 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 154

تاریخ احمدیت ، جلد ۳ 150 آغا ز ہجرت سے حضرت مسیح موعود کے وصال مبارک تک سرسید احمد خاں سے خط و کتابت سرسید احمد خاں مرحوم نے "الدعا و الاستجابه ایک کتاب لکھی تھی جس کے جواب میں حضرت مولوی صاحب کی تحریک پر حضرت اقدس علیہ السلام کے قلم سے ” برکات الدعا کار سالہ نکلا۔برکات الدعا کی اشاعت کے بعد سرسید مرحوم نے پہلے سے زیادہ خط و کتاب کا سلسلہ شروع کر دیا اور وفات سے چند دن پیشتر آپ کی خدمت میں لکھا کہ بدوں نصرت الیہ اور دعا کے کچھ نہیں ہو سکتا۔" مباحثہ "جنگ مقدس" ۲۲ / مئی ۱۸۹۳ء سے ۵ / جون ۱۸۹۳ء تک امرت سر میں مشہور مباحثہ جنگ مقدس ہوا۔اس مباحثہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معاونین میں سید محمد احسن صاحب امرد ہوئی اور شیخ اللہ دیا صاحب کے علاوہ حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی تھے۔اور عیسائی فریق کے مناظر ڈپٹی عبد اللہ آتھم تھے۔جن کے مددگار پادری ہے۔ایل ٹھاکر داس صاحب پادری عبد اللہ صاحب اور پادری ٹامس ہاول صاحب قرار پائے۔ایک دفعہ کسی عیسائی نے حضرت مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ پندرہ دن امرت سر میں عیسائیوں سے مباحثہ ہوا۔اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ آپ نے فرمایا۔چار نتائج ہوئے۔اول یہ کہ عیسائیوں جیسا کپتا یعنی جھگڑالو۔ناقل) دنیا میں کوئی نہیں۔دوم مرزا صاحب بڑے حوصلے والے ہیں۔سوم آپ (یعنی عیسائی) ایک منٹ کے لئے بھی کسی مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔چہارم یہ کہ ہم بادشاہ ہیں۔یہ سب نتائج تو پہلے دن ہی میں نے نکال لئے باقی پندرہ دونوں میں تو بہت سے نتائج ظہور پذیر ہوئے۔عیسائی نے پوچھا کہ ان نتائج کی وجوہ کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ (1) حضرت مرزا صاحب نے ایک عمدہ اصل قائم کیا تھا کہ عظمند جو دعوی کرے اس کی دلیل دے اور جو اعتراض کرے۔یا جواب دے تو اس کی دلیل اپنی مسلمہ کتاب الہامی میں سے دے۔اپنی طرف سے کچھ نہ کے۔پھر باد جو دوعدہ کے آپ اس اصل کی طرف آئے ہی نہیں اس لئے کہتے ہو۔(۲) مرزا صاحب و سیع حو صلہ اس لئے ہیں کہ باوجود اس کے بھی پندرہ روز تک تم سے مباحثہ کرتے رہے میرے جیسا ہو تا تو پہلے دن میں ختم کر دیتا۔(۳) آپ اپنے مذہب کی صداقت کی دلیل کسی مذہب کے سامنے نہیں دے سکتے اس لئے کسی مذہب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔(۴) ہم اس لئے بادشاہ ہیں کہ ہمارے دعوئی اور جواب کی دلیل ہماری کتاب میں موجود ہے۔اب یہ ایک بیج بویا گیا ہے اور ایسا اصل ہے کہ سوائے قرآن دانوں کے کوئی مذہب والا نہیں چل سکتا نہ