تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 135
131 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک ہوئی تو انگریزوں نے ۹ / مارچ ۱۸۴۶ء کو راجہ گلاب سنگھ سے معاہدہ کیا کہ وہ پچھتر لاکھ روپیہ نذر کر کے اس حصہ ملک پر قابض و متصرف رہیں جس پر ”سکھوں کے عہد میں قابض و متصرف تھے راجہ گلاب سنگھ نے انگریزوں کی حکومت اعلیٰ تسلیم کرلی اور یہ اقرار کیا کہ ہمسایہ ریاستوں سے اگر کوئی نزاع پیش آئے گا تو اس کا فیصلہ برٹش گورنمنٹ کرے گی اور وہ ہنگامی حالات میں انگریزی فوج کی اعانت کریں گے۔اس طرح جموں و کشمیر کی ریاست قائم ہوئی۔اور راجہ گلاب سنگھ اس ریاست کے مہاراجہ ہوئے۔مہاراجہ گلاب سنگھ کا زمانہ نہات درجہ تکلیف دہ زمانہ تھا جس میں کشمیر کے مسلمان باشندوں کو زر خرید غلاموں سے بھی بد تر حیثیت دی گئی تھی۔اگست ۱۸۵۷ء میں راجہ گلاب سنگھ چل ہے۔اور ان کی جگہ ان کے بیٹے مہاراجہ رنبیر سنگھ گدی پر بیٹھے۔مہاراجہ رنبیر سنگھ اہل کمال کے قدردان اور علم دوست حکمران تھے۔خصوصاً علم طب سے ان کو خاص شغف تھا ان کے دربار میں قریباً پچیس نامی گرامی حکیم ، ڈاکٹر اور وید جن میں حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی ، کلکتہ کے مشہور بنگالی ڈاکٹر گوپال چندر۔حکیم فدا محمد دہلوی ، حکیم سید احمد شاہ لاہوری اور حکیم ولی شاہ لاہوری خاص طور پر قابل ذکر ہیں ملازم تھے۔۱۲ ستمبر ۱۸۸۵ء کو مہاراجہ رنبیر سنگھ کے آنکھ بند کرتے ہی ریاست کا یه شهری دور رخصت ہو گیا اور ریاست میں ہر طرف خلفشار انتشار اور بد نظمی پھیل گئی اور اس کے تینوں بیٹوں پر تاب سنگھ امر سنگھ اور رام سنگھ میں اتفاق نہ رہا۔مہاراجہ پرتاب سنگھ نے (جو مہاراجہ رنبیر سنگھ کا بڑا بیٹا اور اس کا جانشین تھا) انتظامی امور سے تھا ! کنارہ کشی اختیار کرلی یا بعض لوگوں کے خیال کے مطابق کر نیل سٹ ریذیڈنٹ کی شکایات کی بناء پر حکومت ہند نے مہاراجہ کے اختیارات سلب کر لئے اور وہاں ایک کو نسل قائم کر دی۔بہر حال مہاراجہ کا استعفا قبول کیا گیا اور مہاراجہ پرتاب سنگھ کے بھائی راجہ امر سنگھ اور راجہ رام سنگھ کو نسل کے ممبر تجویز ہوئے۔اور دیوان کچمن داس ایمن آبادی کو نسل کے صدر قرار پائے۔کونسل میں ایک اور ممبر نالہ باگ رام بھی تھے ان کے علاوہ کچھ انگریزی افسر بھی شامل کئے گئے۔کونسل میں صرف ایک مسلمان ممبر خان بهادر غلام محی الدین نامزد ہوئے اور یہ قرار پایا۔کہ اگر چہ کو نسل کو کامل اختیارات ہیں۔لیکن کوئی اہم کام ریذیڈنٹ کے مشورہ کے بغیر نہ کیا جائے۔اور ریذیڈنٹ کو نسل کی کاروائیوں کے مشیر کے فرائض سر انجام دے گا۔کچھ عرصہ بعد دیوان کچمن داس صدارت سے بر طرف کر دیئے گئے اور ان کی جگہ مہاراجہ ہری سنگھ کے والد راجہ امر سنگھ ممبر کو نسل پریذیڈنٹ مقرر ہو گئے اور ان کی جگہ راجہ سورج کول نام ایک عہدیدار لاہور سے سینیٹر ممبر بنا کر بھیجے گئے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب تو ایک درویش طبع اور خدارسیدہ بزرگ تھے انہیں حکومت