تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 136
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 132 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک میں دخیل و متصرف ہونے کا نہ پہلے خیال تھا نہ اب ہو سکتا تھا۔البتہ اب ان کے لئے تبلیغی نقطہ نگاہ سے ایک عمدہ موقعہ پیدا ہوا۔جو پہلے میسر نہیں تھا۔کیونکہ جیسا کہ خان بہادر شیخ محمد عبد اللہ صاحب (علیگ) ( سابق ٹھاکر داس) کے قبول اسلام کے حالات میں آچکا ہے مہاراجہ پرتاب سنگھ ایک تنگدل اور تنگ خیال شخص تھا جس نے ۱۸۸۶ء میں دیوان امرناتھ گورنر جموں کو بلوا کر یہ حکم دیا کہ ہندولڑکے کو مولوی صاحب کے مکان پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔چنانچہ گورنر نے مہاراجہ کے اس حکم کی پوری پوری تعمیل کرائی۔لیکن چار سال بعد جب مہاراجہ پرتاب سنگھ کا اقتدار چھن گیا۔تو حضرت مولوی صاحب کے لئے اپنی تبلیغی کوششوں کو جاری رکھنا نسبتا زیادہ آسان ہو گیا۔راجہ امر سنگھ صاحب اور راجہ رام سنگھ صاحب دونوں سے حضرت - سے خود مولوی صاحب کے تعلقات (جو مہاراجہ پرتاب سنگھ کے زمانہ سے ہی تھے اور جن کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کا وجود بھی اس کی نگاہ میں خار بن کر کھٹکنا شروع ہو گیا تھا) اور زیادہ مستحکم ہو گئے اور آپ نے ان دونوں کو قرآن شریف پڑھانا شروع کیا جو آپ کی روحانی غذا تھی۔چنانچہ راجہ رام سنگھ صاحب نے جو چھوٹے بھائی تھے۔قریباً سارا قرآن شریف ترجمہ سے ختم کر لیا اور دل سے مسلمان ہو گئے۔اس کے بھائی (مہاراجہ ہری سنگھ کے والد) راجہ امر سنگھ صاحب نے صرف پند رہ پارے تک پڑھا اور گو اسلام تو قبول نہ کیا مگر حضرت مولوی صاحب سے نہایت درجہ گہرے تعلقات قائم کر لئے۔آپ کے قادیان آجانے کے بعد بھی برابر ان کی خط و کتابت جاری رہی۔حضرت مولوی صاحب کا وجود چونکہ مسلمانان کشمیر کے لئے ایک بڑے سہارا کا موجب رہا اور دیسے بھی آپ کی شخصیت کا بھاری اثر تھا اس لئے جو نہی پرتاب سنگھ صاحب دوبارہ بر سراقتدار آئے کو نسل کے بعض ممبروں اور دوسرے حاسدوں نے جن میں راجہ سورج کول اور باگ رام کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔اور جن کو آپ سے مذہبی اختلاف کے علاوہ ذاتی بغض و عناد بھی تھا آپ کے ریاست بد ر کرنے کی اندر ہی اندر سازش شروع کر دی۔حضرت مولوی صاحب اپنی تبلیغی کوششوں اور راجہ امر سنگھ و راجہ رام سنگھ سے تعلق و مراسم کی وجہ سے مہاراجہ پرتاب سنگھ کی صاحب کی نظر میں پہلے ہی سے معتوب تھے اب جو دوسرے ممبروں نے بھی اس کے کان بھرنے شروع کر دیئے تو وہ اور زیادہ بھڑک اٹھا اور بالاخر اس ڈر سے کہ کہیں رام سنگھ اور اس کے بھائی مسلمان نہ ہو جا ئیں اس نے حضرت مولوی صاحب کے خلاف اخراج از ریاست کے وہ شرمناک احکام جاری کر دیئے جن کا ذکر اور پر کیا گیا ہے۔اخراج ریاست سے قبل مہا راجہ پونچھ نے آپ پر راجہ امر سنگھ کا حامی قرار دے کر ایک مقدمہ کی بھی بناڈالی تھی