تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 134 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 134

تاریخ احمدیت جلد ۳ 130 سفر ترمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا ہونا محدثات میں سے ہے۔جس کے لئے کتاب و سنت میں کوئی سند نہیں اور جو شخص ایسا کرے وہ مردود ہے۔پس اس غرض کے لئے کوئی مکان بھی اسی ذیل میں آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس فتویٰ کا مفصل جواب دیا (جو تاریخ احمدیت میں آچکا ہے) اور مکان بنوانے کے متعلق آپ نے لکھا " رہا مکان کا بنانا تو اگر کوئی مکان بہ نیت مهمانداری اور بہ نیست آرام هر یک صادر و دارد بنا نا حرام ہے۔تو اس پر کوئی حدیث یا آیت پیش کرنی چاہئے اور اخویم حکیم نور الدین صاحب نے کیا گناہ کیا کہ محض اللہ اس سلسلہ کی جماعت کے لئے ایک مکان بنوا دیا۔جو شخص اپنی تمام طاقت اور اپنے مال عزیز سے دین کی خدمت کر رہا ہے اس کو جائے اعتراض ٹھہرانا کس قسم کی ایمانداری ہے " ریاست جموں وکشمیر سے تعلق ریاست جموں وکشمیر سے جو تعلق ملازمت مہاراجہ رنبیر سنگھ کے ذریعہ ۱۸۷۶ء میں ہوا تھا ملازمت کا خاتمہ اور اس کا پس منظر وہ ستمبر ۱۸۹۲ء میں اس کے نالائق جانشین مہاراجہ پرتاب سنگھ کے اس ظالمانہ حکم سے ختم ہوا کہ آپ اڑتالیس گھنٹہ کے اندر اندر ریاست سے نکل جائیں۔چنانچہ اخبار " سر مور گزٹ " (۱۶/ ستمبر ۱۸۹۲ء صفحہ ۲ کالم ۲) نے پیسہ اخبار کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی۔افسوس ہے کہ جناب مولانا مولوی نور الدین صاحب کی نسبت اخباروں کی خبروں سے یہ امر تحقیق ہو گیا ہے کہ جناب ممدوح کو ریاست سے علیحدہ کر دیا گیا ہے پیسہ اخبار لکھتا ہے کہ مہاراجہ صاحب نے سری نگر سے جموں تار بھیجا۔کہ اڑتالیس گھنٹہ کے اندر مولوی حکیم نور الدین صاحب کو نکال دیا جائے چنانچہ مولوی صاحب بھیرہ روانہ ہو گئے ہیں "۔ایک ایسا شخص جس نے نہایت وفاداری اور امن پسندی اور رواداری کے ساتھ پندرہ سولہ سال تک ریاست کے ہر طبقہ کی خدمت کی ہو اور اپنے دینی اور اخلاقی کیریکٹر کے اعتبار سے ایک مثالی شان کا حامل ہے۔وہ بھلا قانون شکنی کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ در اصل پس پردہ کچھ اور سازشیں تھیں جو مدت سے ریاست کے اندر ہی اندر آپ کے خلاف پرورش پارہی تھیں اور جو اخراج ریاست کے المناک حادثہ پر منتج ہو گئیں۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ۱۸۴۴ء کے قریب قریب سکھوں کے راجہ گلاب سنگھ صاحب نے ریاست جموں وکشمیر پر اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔۱۸۴۶ء میں جب انگریزی حکومت پنجاب پر قابض