تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 90 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 90

تاریخ احمدیت۔جلد ۲۳ 86 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک الا بولی میں کلام ہے چونکہ فتویٰ عین منشاء کے مطابق نکلا۔آپ کو بڑی مسرت ہوئی اور ارادہ کر لیا کہ اب بیوہ مذکورہ کو گھر میں لایا جائے اپنے دیوان خانہ کے دروازہ تک پہنچے تو ایک شخص سامنے سے آیا اور کہنے لگا کہ اس حدیث کا مطلب مجھے سمجھائیں الاثم ما حاک فی صدرک ولو افتاک المفتون آپ نے اسے ایک غیبی آواز سمجھا اور آپ کے دل میں صیح آہنی کی طرح بیٹھ گیا کہ یہ خدا تعالی کی طرف سے تنبیہہ ہوئی ہے کہ ان مفتیوں کے فتویٰ کی پرواہ نہ کرو۔دیوان خانہ کا دروازہ بند کر کے دالان میں داخل ہوئے پھر دل میں وسوسہ پیدا ہوا کہ اول تو حدیث مجروح ہے پھر مفتیوں نے فتویٰ بھی جواز کا دے دیا ہے ادھر دوسری حدیث ڈراتی ہے تو اب کیا کیا جائے خدا کی قدرت اسی فکر میں لیٹ گئے آپ پر نوم کا غلبہ ہوا تو آپ کو رویاء میں دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی دیکھا کہ حضور سامنے بیٹھے ہوئے ہیں آپ ۲۵ برس کی عمر کے معلوم ہوتے ہیں مگر بائیں جانب سے آپ کی ریش مبارک خشخشی ہے اور دائیں طرف سے داڑھی کے بال لمبے ہیں۔آپ نے دل میں کہا کہ اگر رسول کریم ﷺ کی ریش مبارک کے بال دونوں جانب سے یکساں ہوتے تو بہت خوبصورت معلوم ہوتے۔پھر معاً آپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ چونکہ مجھے اس حدیث کی صحت میں تامل ہے اس لئے یہ فرق ریش مبارک میں ہے پھر آپ نے عزم بالجزم کر لیا کہ خواہ کوئی انسان ہو اگر وہ اس حدیث کو ضعیف کے گائیں ہر گز اس کا کہا نہیں مانوں گا اس خیال کا دل میں آنا تھا کہ آپ نے دیکھا آنحضرت کی ریش مبارک برابر ہو گئی حضور آپ کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔کہ کیا آپ کشمیر دیکھنا چاہتے ہیں آپ نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ۔آپ اٹھے اور چل پڑے۔حضور آگے آگے اور آپ پیچھے پیچھے تھے اور بالا خر خواب میں ہی بانہال کے رستہ سے کشمیر پہنچ گئے۔اس رویاء کی تکمیل کا ظاہری سبب یہ ہوا کہ بھیرہ کے ایک ہندو لالہ متھر اداس جو آپ کے ہمسایہ بھی تھے اور مہاراجہ رنبیر (یا رندھیر ) سنگھ والی ریاست جموں و کشمیر کے عہد میں پولیس افسر تھے سل میں مبتلا ہو کر اور بھیرہ اگر آپ کے زیر علاج رہے اور شفا پائی جس کا دور دور تک شہرہ ہوا۔اسی اثناء میں دیوان کر پارام وزیر اعظم کشمیر پنڈ دادنخاں سے گزرے اور انہیں بھی اس کامیابی کا علم ہوا واپس جا کر انہوں نے اور لالہ متھر اداس کے ماموں بخشی جوالہ سنگھ صاحب نے مہاراجہ صاحب سے آپ کے علم و فضل کا تذکرہ کیا۔یہ ۱۸۷۶ء یا اس سے کچھ پیشتر کا واقعہ ہے۔مہاراجہ صاحب نے لالہ متھر اداس ہی کو بھیجوایا کہ مولوی صاحب کو جا کر بھیرہ سے لے آؤ۔ریاست جموں و کشمیر میں ملازمت کا آغاز لالہ متھر اور اس صاحب مہاراجہ کا حکم لیکر LL بھیرہ آئے چنانچہ حضرت مولوی نور الدین