تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 91 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 91

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 87 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک AT صاحب اور آپ کے شاگر د خلیفہ نورالدین صاحب جمونی اور لالہ متھر اداس مینوں ایک یکہ میں سوار ہو کر کئی روز میں وزیر آباد اور سیالکوٹ کے رستہ جموں پہنچے۔لالہ متھر اداس نے کہا کہ مولوی صاحب کے دو سو روپیہ مشاہرہ ریاست بھوپال سے ملتا رہا ہے چنانچہ مہاراجہ صاحب نے فی الفور دو سو روپیہ منظور کر لئے اور کہا کہ اگر ایسا آدمی دو ہزار بھی مانگے تو ہم اس قدر رقم دینی منظور کر کے بھی انہیں ضرور رکھ لیں کچھ عرصہ کے بعد یہ تنخواہ چار سو اور پھر پانچ سو تک کر دی گئی۔جموں میں آپ نے ایک مختصر سرکاری بالا خانہ میں رہائش اختیار کرلی۔یہاں سے آپ کو دربار آنے جانے میں سہولت تھی اس مکان کا مہتم بڑا بد عمد مشہور تھا۔اسی بناء پر آپ نے ایک سال کے لئے اسٹامپ بھی لکھوالیا۔مگر وہ دوسرے تیسرے روز ہی عہد سے پھر گیا اور کہا کہ فلاں کرایہ دار مجھے دو گنا کرایہ دیتا ہے باقی رہی تحریر تو میرے نزدیک یہ قابل اعتبار نہیں ہے آپ اسے دو گنا کرایہ دینے پر رضامند ہو گئے لیکن وہ تھوڑی دیر کے بعد آکے کہنے لگا کہ وہ آدمی جو گنا کرایہ دیتا ہے آپ نے فرمایا اچھا ہم چوگنا ہی دیتے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آیا اور کہنے لگا کہ وہ بارہ گنا کرایہ دیتا ہے ایک سرکاری افسر کی پیرانہ سالی میں اس درجہ بد عمدی دیکھ کر آپ کو شہر سے ہی نفرت ہو گئی اور آپ اسباب بند ھوا کر نیچے اترنے لگے کہ جموں کے رئیس شیخ فتح محمد صاحب آگئے۔اصل قصہ معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے آدمیوں سے اسباب اٹھوالیا اور آپ کو اپنے گھر جو محلات شاہی کے قریب ہی واقع تھا لے آئے۔آپ بارہ سال ان کے مکان میں فردکش رہے اور انہوں نے اور ان کے گھر کے تمام افراد نے آپ سے اس درجہ عمدہ سلوک کیا کہ آپ نے خود لکھا ہے کہ ”میں اب تک ان کے وسعت حوصلہ پر حیران ہوں۔۔۔۔اور یہ بات ان کی ذات ہی سے وابستہ نہیں تھی۔بلکہ ان کے گھر کے تمام چھوٹے بڑے سب ایک ہی رنگ میں رنگین دیکھے۔۱۸۸۸ء تک آپ کی نشست گاہ اور مطب دونوں شیخ فتح محمد صاحب کے مکان پر رہے جس میں مختصر سے دو کمرے اور سامنے ایک بڑا لمبا پلیٹ فارم تھا۔اور زنانہ مکان تھوڑے فاصلہ پر محلہ کے اندر Ar Ar مسجدہ کے پاس تھا۔۱۸۸۸ء کے بعد جب کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ فوت ہو چکے تھے اور مہاراجہ پرتاب سنگھ حکمران تھے آپ بخشی را مد اس صاحب وزیر وزارت کے مکان کے پاس ایک دو منزلہ عمارت میں منتقل ہو گئے اور ہیں مطب بھی آگیا تھا۔۱۸۵ ۱۸۸۸ء سے ۱۸۹۲ء کے آخر تک پھر آپ کا اسی جگہ قیام رہا اس زمانہ میں آپ کو دیکھنے والے بعض لوگ جو اب تک بقید حیات ہیں ان میں سے ایک غیر احمدی دوست) محمد اکرم خان پیشنر