تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 89
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 85 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تکہ ملک صاحب نے حضرت مولوی صاحب کی تحریک دلانے پر ایک دوشیزہ سے شادی کر لی۔اور بالا خر اس مرد خدا کی زبان سے نکلی ہوئی بات حرف بحرف پوری ہوئی یعنی ان کے ہاں ۱۸۷۴ء میں ملک عمر حیات خاں پیدا ہوئے جنہوں نے بعد میں بہت ترقیات کیں اور ٹوانہ خاندان میں بڑا نام پیدا کیا اور یہ سب کچھ خدا کے فضل اور آپ کی توجہ اور روحانی قوت کا نتیجہ تھا۔(۴) ان دنوں آپ کو تاریخ ابن خلدون کا بہت شوق تھا۔ایک تاجر ستر روپیہ میں بیچتا تھا۔آپ بالا قساط یہ رقم دینا چاہتے تھے مگر تاجر اس پر رضامند نہ ہوا۔لیکن جب آپ نماز ظہر کے لئے مطلب میں آئے تو تاریخ کی یہ کتاب وہاں رکھی تھی۔ہر چند آپ نے تحقیق کی کہ کون رکھ گیا ہے مگر کچھ پتہ نہ چلا کچھ مدت کے بعد معلوم ہوا کہ کسی رئیس نے ایک عرصے سے ایک سکھ کو حکم دے رکھا تھا کہ مولوی صاحب کو کوئی ضرورت پیش آئے تو بلا تامل پوری کر دیا کرو۔اتفاق سے یہ سکھ بھی اس دن مجلس میں موجود تھا اس نے فورا یہ کتاب اس تاجر سے خرید کر مطب میں رکھ دی اور اس کی قیمت اس رئیس سے وصول کرلی۔(۵) ان دنوں ایک مفلوج کا آپ نے کامیاب علاج کیا جس سے آپ کی غیر معمولی شہرت ہو گئی۔اس بیماری میں آپ نے گو علاج تو یونانی ہی کیا۔مگر ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کر لیا۔مکہ معظمہ میں پہلی مرتبہ آپ کو ڈاکٹری کی طرف توجہ ہوئی تھی اب اس موقعہ پر آپ کو اس کی طرف اور زیادہ رجحان پیدا ہو گیا۔۔بھیرہ میں غالبا سب سے اہم واقعہ جو باطنی اعتبار سے آپ کی ملازمت جموں و کشمیر پر منتج ہوا یہ پیش آیا کہ آپ کو سفر حرمین کے بعد سے بیوہ عورتوں کی شادیوں کی طرف خاص توجہ پیدا ہو چکی تھی ان دنوں آپ نے ایک بیوہ کو نکاح کی تحریک کی۔اس نے پہلے معذرت کی پھر کہا کہ نکاح کر لیا جائے ولی بعد میں راضی ہو جائیں گے۔حضرت خلیفہ اول نے ولی کی مزاحمت کے باوجود اس کی پروانہ کرتے ہوئے اس بیوہ سے نکاح کر لیا۔ابھی رخصتانہ کی نوبت نہ آئی تھی کہ آپ نے حضرت رسول مقبول ا کو خواب میں دیکھا کہ حضور کا چہرہ زرد ہے اور ریش مبارک مونڈی ہوئی ہے اور زمین پر لیٹے ہوئے ہیں آپ پر خواب کی تعبیر کھلی کہ یہ نکاح سنت نبوی علیہ السلام کے خلاف ہوا ہے۔اس پر آپ نے ایک خط مولوی نذیر حسین صاحب محدث دہلوی کو اور ایک خط مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو اس وقت اہلحدیث کے پیشوا اور ایڈووکیٹ سمجھے جاتے تھے۔لکھا کہ ایک بیوہ عورت ہے بالغ ہے ہوش و حواس سالم میں نکاح کرنا چاہتی ہے مگر ولی مانع ہیں۔جواب آیا کہ وہ ولی معزول ہو جاتے ہیں جو مانع نکاح ہوں۔بیوہ ایسی حالت میں باختیار خود نکاح کی مجاز ہے۔کیونکہ حدیث لا نکاح