تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 82
تاریخ احمدیت جلد ۳ 78 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک اپنے ایک شاگرد سے یہ سرمہ بنانے کی ہدایت فرمائی۔جست (میں ماشه) سرمه سیاه (بیس ماشه) زنگار ( تین ماشہ ) سفیده کاشغری (چار ماشه) افیون ( تین ماشه ) سمندر جھاگ (چار ماشہ ) اور افیون کے سوا انہیں اجزاء کا دوسرا سرمہ بھی آپ نے تیار کر لیا۔آپ نے عصر کے بعد وضو کرتے ہوئے ایک شخص کی آنکھوں کو بغور ملاحظہ فرما کر پہلی قسم کا سرمہ لگا دیا۔اس کی دیکھا دیکھی ایک اور نے درخواست کی۔یہ آپ کا گویا پہلا اشتہار تھا۔بھیرہ میں رطوبت کے زیادہ ہونے سے یہ بیماری بھی عام پھیلی ہوئی تھی۔دوسرے دن صبح مریضوں کا ہجوم آپ کے پاس ہو گیا بعض مریض نزلی اور بعض معدی آشوب کا شکار تھے۔اور بعض کو طبقات العین میں یہ عارضہ تھا اس لئے آپ نے سرمہ بھی لگایا اور اطریفل کشنیزی کے استعمال کی بھی ہدایت دی۔بعض کے کانوں کے پیچھے یا ہڈی یا گردن پر پلاسٹر بھی لگا دیا۔بس یہ آپ کے مطب کا پہلا دن تھا خد اتعالیٰ کے عجائبات ہیں کہ آگے چل کر اس سرمہ کی بدولت آپ کو طب میں غیر معمولی برکت اور عظیم الشان کامیابی ہوئی گردو نواح میں آپ کی دھوم مچ گئی۔اور آپ کی طبابت کا سکہ بیٹھ گیا۔اور پھر ہر طرف اتنا چرچا ہوا کہ آپ کے ہمعصر اطباء کی آنکھیں بھی چکا چوند ہو گئیں۔۔اہل حرفہ دو سرے ہم پیشہ کو اپنا حریف سمجھتے ہیں۔مگر آپ کے مد نظر تو مخلوق خدا کی ہمدردی تھی آپ کے مطلب کا دروازہ صرف مریضوں ہی کے لئے نہیں طبیبوں کے لئے بھی ہمیشہ کھلا رہتا تھا اور آپ ان کو قیمتی سے قیمتی نسخہ جات بتانے میں کچھ تامل نہیں کرتے تھے۔چنانچہ اس زمانہ کے بعض نسخے بھیرہ کے قدیم خاندانوں کی طبی بیاضوں میں آج تک موجود ہیں۔بھیرہ میں آپ کا مطب ابتداء ایک ایسے وسیع مکان میں تھا جو ایک طبیب کے لئے نہایت موزوں تھا۔اس کا انتخاب اپنے والد ماجد کے ارشادہی سے کیا تھا مگر جب کچھ عرصہ بعد آپ کے والد ماجد کا وصال ہو گیا۔تو آپ کے سب سے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب نے (جنہوں نے آپ کو پڑھایا پرورش کی اور شادی کا انتظام کیا تھا) آپ سے کہا کہ یہ مکان میرے روپیہ سے خرید گیا تھا اور میں نے ہی اس کی مرمت کے اخراجات ادا کئے تھے۔لہذا آپ تحریر میں بھی یہ بات لکھ دیں اور جیسا کہ بعد میں آپ کی والدہ محترمہ نے بھی وضاحت فرما دی اس تحریر کا منشایہ نہیں تھا کہ آپ یہ مکان ہی چھوڑ دیتے مگر آپ نے پوری بشاشت قلبی سے یہ تحریر بھی لکھ دی اور اپنے شاگردوں سے کہا کہ دوائیں اٹھا کر فلاں مسجد کے حجرہ میں رکھ دو اور اسی وقت مکان خالی کر دیا اب یہ حالت تھی کہ آپ ان دنوں بالکل تہی دست تھے۔اور بظاہر کوئی تدبیر نے مکان بنوانے کی نہیں تھی۔شہر میں ایک سرکاری زمین تھی جس کو کمیٹی کی زمین کہتے تھے آپ نے اپنے ایک دوست مستری سے کہا کہ تم اس