تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 81 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 81

تاریخ احمدیت جلد ۳ 77 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک "وطن آیا تو مقلد لوگ شیخ ابن عربی محمد اسماعیل کے باعث صوفی ابن تیمیہ کے سبب غیر مقلد آئمہ اربعہ اور امام یوسف و امام محمد کی محبت کے موجب کا فربنانے لگے۔" یہ تو اندرون ملک کی مخالفتوں کا مختصر سا بیان ہے ورنہ آپ کے مخالفین حضرات آپ کے پیرو مرشد حضرت شاہ عبد الغنی مجددی اور حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی کی خدمت میں بھی پہنچنے مگر ناکام و نامراد واپس آئے۔علماء باوجودیکہ ان کی اکثریت تھی اور عوام بھی ان کے ساتھ تھے آپ کی زبر دست شخصیت سے مرعوب تھے وہ اپنی مجلسوں میں آپ کی مذمت کرتے مگر بعض اوقات ایسا ہو تا کہ جو نہی ان کی نظر آپ پر پڑ جاتی ان پر سکتہ کا عالم طاری ہو جا تا تھا ت دراصل ان کے دل یہ تسلیم کرتے تھے کہ جس شخص سے ہمارا نظریاتی اختلاف ہے وہ معمولی شخصیت کا انسان نہیں بہت بڑا عاشق رسول ہے چنانچہ بھیرہ کے گیلانی خاندان کے ایک بزرگ پیر بادشاہ صاحب بتایا کرتے تھے کہ مولوی نور الدین صاحب کے مخالف فریق کا ایک شخص کہا کرتا تھا کہ دشمنی کے باوجو د میں ان کو دلی کہتا ہوں۔کیونکہ جب آنحضر اللہ کانام ان کے سامنے لیا جاتا ہے تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور ایک خاص وجدانی کیفیت ان سے ظاہر ہوتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ حضور سے ان کا کوئی خاص گہرا تعلق ہے اور نفسیاتی طور پر آپ کے نام سے ہی آپ کے وجود پر بڑا اثر پڑتا ہے حضرت مولوی نورالدین صاحب نے بھیرہ میں درس و تدریس اور مطب کا آغاز بھیرہ میں آتے ہی قرآن و حدیث کے - - ، ۵۳ درس و تدریس کا سلسلہ جاری کر دیا۔ابتدا میں آپ نے مشکواۃ پڑھانی شروع کی۔یہ درس آپ کی آبائی مسجد میں ہو تا تھا۔آپ کے والد ماجد جن کو شروع ہی سے آپ کو قاری سے قرآن پڑھانے کا بہت ذوق و شوق تھا آپ کے درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔درس کے علاوہ (جو آپ کی روحانی غذ اتھا) آپ نے محض خدمت خلق کے جذبہ کے ساتھ مطب بھی جاری کر دیا۔مطلب چلنے کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ آپ مریضوں سے مانگتے نہیں تھے اور غرباء کو دوا بالکل مفت دیتے تھے (اور یہی دستور آپ کا آخر دم تک رہا) فصد کرنا ، معجون اور شربت کا استعمال آپ نتیج سمجھتے تھے اس لئے تمام جراح اور پنساری آپ کے دشمن ہو گئے اور علماء کی شدید مخالفت و مزاحمت اس کے علاوہ تھی بعض مقامی طبیبوں نے مطب کے اجراء سے قبل آپ کو صاف صاف اختباہ کر دیا۔کہ آپ یہاں کسی طرح کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔مگر آپ نے اللہ پر توکل کر کے