تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 79 سفر حرمین شریفین سے حضرت مسیح موعود کی پہلی زیارت تک زمین پر مکان بناؤ اور ایک ہندو سے کہا کہ تم روپیہ دے دو۔مکان بنا شروع ہو گیا۔وہاں تحصیلدار (جن کا نام منصب دار خاں تھا اور جو راولپنڈی کے علاقہ کے رہنے والے تھے) نے آپ کے پاس کہلا بھیجا کہ اول تو کوئی مکان بلا اجازت اور بغیر نقشہ منظور کرائے بنانا جائز نہیں پھر یہ سرکاری زمین میں مکان بنانا قانون کے خلاف ہے۔میں بسبب ادب کے کچھ نہیں کہہ سکتا۔مگر ہاں یہ بتائے دیتا ہوں کہ کمیٹی بھی اگر چہ یہ سبب ادب کے کچھ نہیں کہہ سکی۔لیکن انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو رپورٹ کر دی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بنا بنایا مکان گرا دیا جائے گا۔آپ کے دوست مستری نے بھی یہی کہا۔مگر چونکہ آپ کا دل انشراح صدر سے یہی کہتا تھا کہ مکان ضرور بنے گا اسلئے آپ نے اسے یہی فرمایا کہ تم اپنا کام کئے جاؤ۔صاحب ڈپٹی کمشنر نے کمیٹی والوں کی رپورٹ پر کہا کہ ہم بہت جلد وہاں آنے والے ہیں خود ہی آکر موقع کا ملاحظہ کریں گے چنانچہ وہ آئے اور بعد ملاحظہ فرمایا کہ جس قدر مکان بن چکا ہے وہ تو ابھی رہنے دو باقی تعمیر کا کام روک دو۔آپ بھی اس وقت وہاں قریب کے مکان میں موجود تھے ڈپٹی کمشنر صاحب کے آنے کی خبر سن کر وہاں پہنچے تو ڈپٹی کمشنر صاحب وہاں سے چلے گئے تھے اور بہت سے قدم آگے نکل گئے تھے مگر آپ کو آتا دیکھ کر شاید ان کے ہمراہی لوگوں میں سے کسی نے کہا ہو گا کہ مکان بنوانے والا آگیا ہے وہ پھر واپس آئے اور ان کو واپس ہوتے دیکھ کر آپ کے دل نے کہا کہ حکم ٹوٹ گیا۔جب وہ آگئے تو آپ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم جانتے ہو یہ سرکاری زمین ہے ؟ آپ نے کہا ہاں! مگر سارا شہر ہی سرکاری زمین ہے انہوں نے پوچھا کہ وہ کس طرح؟ آپ نے جواب دیا کہ اگر سرکار کو اس شہر کے مقام پر فوجی میدان بنانا پڑے تو کیا شہر کے لوگ انکار کر سکتے ہیں ؟ کہا ہاں نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا بس اسی طرح ہر جگہ سرکاری ہی کہلاتی ہے۔تب انہوں نے کہا کہ اچھا آپ کا مکان سرکاری زمین کے کتنے حصہ میں بن سکتا ہے آپ نے کہا کہ ایک طرف تو سڑک ہے دو سرے طرف بھی شارع عام ہے اس کے درمیان جتنی زمین ہے اس میں مکان بن سکتا ہے ڈپٹی کمشنر نے کہا اچھا ابھی میخیں گاڑ دو۔چنانچہ میخیں گاڑ دی گئیں۔پھر تحصیلدار اور میونسپلٹی کے لوگوں سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کوئی اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ان کا مکان تو نافع عام ہوتا ہے ہم کو کوئی اعتراض نہیں آپ سے کہا کہ اچھا آپ اپنا مکان بنا ئیں جب وہ چلے گئے تو تحصیلدار نے آپ کے پاس آکر کہا کہ یہ تو سکھا شاہی فیصلہ ہوا ہے کیونکہ ڈپٹی کمشنر صاحب کو خود بھی اختیار اس طرح سرکاری زمین دینے کا نہیں ہے آپ نے ان سے کہا کہ آپ خاموش رہیں بہت دور جا کر ڈپٹی کمشنر پھر واپس آئے اور آپ سے کہا کہ سڑک کے ساتھ ساتھ بدرد ہے آپ کو اس کے سبب سے بہت تکلیف پہنچے گی آپ نے کہا میں نے سنا ہے انگریز بہت عقل مند ہوتے ہیں آپ ہی کوئی تدبیر بتا کہیں۔کہا میں نے تدبیر یہ سوچی ہے کہ سرکار