تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 73 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 73

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ جدی بھائیوں کی طرف سے اندار کا کا مرہ اور مقدمہ دیوار ماموریت کا انیسواں سال جدی بھائیوں کی طرف سے ”الدار" کا محاصرہ اور مقدمہ دیوار (*1900) بیسوی صدی کا آغاز ایک انتہائی درد انگیز اور رنج دہ واقعہ سے ہوا جس نے قریبا پونے دو سال تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو نہایت درجہ پریشانی اور بھاری مصیبت میں مبتلا کئے رکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ ہی اسلامی رواداری مردت اور احسان کا سلوک کیا لیکن وہ فتنہ اٹھانے اور مظلوم احمدی آبادی کو اذیت پہنچانے میں خاص لذت محسوس کرتے تھے کوئی احمدی قریبی ڈھاب سے مٹی لینے جاتا تو وہ کرالیں اور ٹوکریاں تک چھین لیتے۔ان کے ذوق ستم رانی کی حدید تھی کہ بعض اوقات اگر کوئی احمدی کھیت میں رفع حاجت کے لئے چلا جاتا اور وہ دیکھ پاتے تو اسے مجبور کیا جاتا کہ وہ اپنے ہاتھ سے اپنا پا خانہ اٹھائے اور اگر کوئی نالہ و فریاد کرتا تو نخش اور غلیظ گالیاں دی جاتیں بلکہ زدو کوب تک نوبت پہنچتی۔کئی احمدی مهاجر ان مظالم کا تختہ مشق بنے۔ایک دفعہ حضرت اقدس کسی جگہ عمارت بنانا چاہتے تھے کہ یہ بلوہ کر کے آگئے اور مجبور اعمارت دو دفعہ ملتوی کرنا پڑی حالانکہ اس کا ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔حضور کے گھر کے سامنے جہاں مہمانوں کے یکے ٹھرتے تھے وہاں کھڑے ہو کر مزاحمت کرنا اور گالیاں دیتا ان کا عام شیوہ تھا۔کوئی اور ہوتا تو ان کی ایذا رسانیوں کا منہ توڑ جواب دیتا لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کا تاکیدی حکم تھا کہ صبر کرو۔چنانچہ آپ کے خدام ہمیشہ انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنتے اور صبر کا قابل رشک نمونہ دکھاتے آرہے تھے۔ان مظلوموں پر عرصہ حیات پہلے ہی تنگ تھا کہ ۵/ جنوری ۱۹۰۰ء کو مرزا