تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 74
تاریخ احمد حت - جلد ۲ جدی بھائیوں کی سے اندار کا محاصرو اور متحد مددیوار امام دین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خدام کو تکلیف دینے کے لئے یہ انتقامی صورت نکالی که مهمان خانہ کو مسجد مبارک سے ملانے والی شارع عام بند کر کے اینٹوں سے دیوار کھینچ دی D جس سے احمدی آبادی مسجد سے براہ راست منقطع ہو گئی اور وہ اپنے آقا کی ملاقات اور آپ کے پاک کلمات سننے کے لئے قصبہ کا ایک دوسرا لمبا چکر دار اور ناہموار اور خراب رستہ اختیار نے پر مجبور ہوئے جو سلسلہ کے اشد معاندین کے گھروں کے سامنے سے گزرتا تھا۔آنے والے مهمان قبل از میں دونوں وقت آپ ہی کے ساتھ کھانا کھاتے اور نمازوں میں باقاعدہ حاضر ہو سکتے تھے مگر اب بالخصوص صبح و عشاء کے وقت ضعیف اور کمزور صحت افراد کا مسجد میں پہنچنا ظالموں نے مشکل بنا دیا بلکہ خود حضرت اقدس کے باہر جانے کا رستہ بھی مسدود ہو گیا کیونکہ حضور اندرون خانہ سے گزرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔اگر یہاں سے گزر کر بھی مسجد اقصیٰ میں جانے کا قصد کرتے تو مکان کی دوسری منزل پر چڑھنا پڑتا۔پھر دوسری طرف سے اتر کر جاسکتے ہے۔حضرت اقدس اپنی کتابوں کے پروف اور کاپیاں بغرض احتیاط خود ہی پڑھتے تھے۔پریس کے کارکنوں کو دن میں کئی بار حضور کی خدمت میں آنا پڑتا تھا مگر اب دیوار نے بڑی مشکل پیدا کر دی۔ایک بڑی دقت یہ پیش آگئی کہ مرزا امام دین کے کنوئیں یا حضور کے مکان میں واقع کنوئیں سے مسجد مبارک تک سقہ کے ذریعہ سے پانی پہنچانے کی کوئی صورت نہ رہی۔غر منکہ حضرت اقدس اور حضور کی جماعت پر زمین اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہو گئی۔حضرت اقدس کو دیوار کے کھینچنے کی جب اطلاع ہوئی تو حضور نے چوہدری حاکم علی صاحب اور بعض دوسرے خدام کو مرزا امام الدین صاحب کے پاس بھجوایا کہ بڑی نرمی سے سمجھا ئیں کہ یہ راستہ بند نہ کریں اس سے میرے مہمانوں کو بہت تکلیف ہو گی۔اور یہ بھی پیشکش کی کہ اگر چاہیں تو میری کوئی اور جگہ دیکھ کر بیشک قبضہ کر لیں لیکن مرزا امام دین صاحب سنتے ہی آگ بگولا ہو کر کہنے لگے کہ وہ (یعنی حضرت اقدس) خود کیوں نہیں آیا اور میں تم لوگوں کو کیا جانتا ہوں۔پھر طنزا کہا کہ جب سے وحی آنی شروع ہوئی ہے معلوم نہیں کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ حاکم ضلع کی خدمت میں وفد جب معالمه نمایت سنگین صورت اختیار کر گیا تو حضور نے احباب کے مشورہ سے یہ تجویز فرمائی کہ ضلع کے حاکم اعلیٰ کے پاس ایک وفد بھیج کر اپنی مشکلات کے ازالہ کی کوشش کی جائے چنانچہ جماعت کے معززین کی ایک فہرست مرتب کی گئی جس میں زمیندار ، تجار اور ملازمت پیشہ اصحاب شامل تھے۔اتفاقاً ڈپٹی کمشنر گورداسپور اور ڈی۔ایس پی کا دورہ قادیان سے متصل ہر چو دال میں مقرر ہو گیا۔حضور کو علم ہوا تو -