تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 72
نهریت - جلد ۲ ۶۹ حقیقته المهدی " کی تصنیف و اشاعت کشوف سے نوازے گئے۔بیعت کے نتیجہ میں آپ کے مال میں بھی غیر معمولی برکت پیدا ہو گئی۔جس کثرت سے آپ کو رزق عطا ہوا اسی کثرت سے آپ نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔بہت سے احمدی بچوں کو اپنے خرچ پر قادیان سے تعلیم دلوائی۔علاوہ ازیں یاد گیر میں بچوں اور بچیوں کے لئے مدرسے جاری کئے۔احمد یہ لائبریری قائم کی۔احمد یہ مسجد اور احمد یہ ہال تعمیر کرائے۔کافی رقم " تحریک تراجم القرآن " میں دی۔غرض کہ عمر بھر سلسلہ کی بڑی بڑی خدمات سرانجام دیں۔۱۹۴۵ء میں حج بیت اللہ کا شرف حاصل کیا۔حج کے بعد مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے قریب ایک مکان میں مقیم تھے کہ ۷ / دسمبر ۱۹۴۵ء کو ایک سو دس سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا اور جنت البقیع میں مزار مبارک حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کے عقب میں سپرد خاک ہوئے ( تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو " حیات حسن " از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اصحاب احمد جلد اول صفحه ۲۰۷۔۲۶۱ از ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ۱۸۸۷۴۸ء میں بمقام جو ڑہ کلاں ( تحصیل قصور ضلع لاہور) میں پیدا ہوئے۔۱۸۹۹ ء میں اپنے والد کی معیت میں قادیان تشریف لائے اور حضرت اللہ س کی بیعت کی۔حضرت اقدس نے ۱۹۰۷ء میں تحریک و قف زندگی کا آغاز فرمایا تو چوہدری صاحب نے اس پر لیک کہتے ہوئے اپنی درخواست حضور کی خدمت میں پیش کردنی جس پر حضور نے اپنے قلم سے منظور کا لفظ لکھ کر آپ کا وقف قبول فرمالیا۔اس کے بعد ہمہ تن دینی خدمت میں مصروف ہو گئے۔۱۹۱۴ء میں انگلستان کے پہلے احمد یہ مشن کی بنیاد رکھی۔۱۹۲۰ء میں مسجد فضل لنڈن کے لئے پٹی ساؤتھ فلیڈ زمیں زمین خریدی ۱۹۲۲ء میں علاقہ ملکانہ میں "امیر المجاہدین " مقرر ہوئے اور تحریک ارتداد کی روک تھام میں بڑے بڑے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔بعد ازاں صد را انجمن احمد یہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے ۱۹۵۴ء میں ریٹائرڈ ہوئے مگر دوبارہ ناظر اصلاح وارشاد کے فرائض آپ کے سپرد ہوئے جنہیں ایک بہادر سپاہی کی طرح سر انجام دیتے ہوئے ۲۸ / فروری ۱۹۷۰ء کو انتقال فرمایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ان کی وفات پر کا رلکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان سے بہت محبت کرتے تھے جب میں نے شمعید الا زبان جاری کیا تو جن لوگوں نے ابتداء میں میری مدد کی ان میں یہ بھی شامل تھے۔ملکانہ تحریک ساری انہوں نے چلائی تھی۔(الفضل ۲ مارچ ۱۹۶۰ء صفحہ ۱) ولادت یکم جنوری ۱۸۸۷ ء وفات ۱۳ اپریل ۱۹۷۷ء۔ڈاکٹر صاحب موصوف کے بیان کے مطابق وہ ۱۸۹۹ء میں حضرت مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ سے منسلک ہوئے جو حضور اقدس کی طرف سے بیعت لینے کے مجاز تھے الفضل ۱۷/۲۰ اپریل ۱۹۲۲ء صفحہ ۱۳ کالم ۳)۔بعد ازاں آپ نے تحریری بیعت بھی ۵/ جون ۱۹۰۳ء کو کی (الحکم ۱۷/ جون ۱۹۰۲) آپ نے حضرت اقدس کی پہلی مرتبہ زیارت اگست ۱۹۰۵ ء میں کی (بدر ۱۷/ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ سے کالم ہو)۔ڈاکٹر صاحب ۱۹۱۹ء سے ۱۹۵۴ء تک "نور ہسپتال ( قادیان دربوہ) میں طبی خدمات پر فائز رہے اور آپ کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کے ذاتی معالج ہونے اور لمبے عرصہ تک فیض صحبت اٹھانے کا بھی فخر حاصل رہا۔تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۲۹/ تمبر ۱۹۴۲ء صفحه ۳ دا حکم ۳۱ جنوری ۱۹۳۸ ء د سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۶۰ - ۱۱ اصحاب احمد جلد ہشتم صفحہ ۷۷)