تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 607
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہنا اجماع مرزا صاحب تو بہر حال اپنے تئیں مسلمان اور خادم اسلام کہتے ہیں اور مسیحیوں ، آریوں ملحدوں کے جواب میں اور تائید اسلام میں سینکڑوں ہزاروں صفحے لکھے گئے ہیں۔" اخبار یچ منقول از اخبار پیغام صلح ۲۲ جنوری ۱۹۲۵ء صفحہ اکالم نمبر ۳) - مولوی نور محمد صاحب نقشبندی چشتی مالک اصبح المطابع دہلی ولایت کے انگریزوں نے روپے کی بہت بڑی مدد کی اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر ڈا تلاطم برپا کیا۔تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور پادری اور اس کی جماعت سے کہا کہ عینی جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح فوت ہوچکا ہے اور جس معینی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں اس ترکیب سے اس نے نصرانیوں کو اتنا تنگ کیا کہ اس کے پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دیدی " دریاچه صفحه ۳۰ بر ترجمہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی)۔چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار " آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسد بیان تھا جس میں تبلیغی جس مفقود ہو چکی تھی مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی ہاں ایک دل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اٹھا۔ایک مختصر کی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا۔جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔" فتنہ ارتداد اور پولٹیکل قلابازیاں طبع دوم صفحه ۲۳) - مولانا نیاز احمد خاں نیچوری تھیں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مرزا صاحب جھوٹے انسان نہیں تھے۔وہ واقعی اپنے آپ کو مہدی موعود سمجھتے تھے اور یقین انہوں نے یہ دعوی ایسے زمانہ میں کیا جب قوم کی اصلاح و تنظیم کے لئے ایک بہادی و مرشد کی سخت ضرورت تھی۔" (رسالہ نگار لکھنؤ اگست ۱۹۵۹ء صفحه (۴) وہ صحیح معنی میں عاشق رسول تھے اور اسلام کا بڑا مخلصانہ درد اپنے دل میں رکھتے تھے۔لوگ منزل تک پہنچنے کے لئے راہیں ڈھونڈنے میں برسوں سر گردان رہتے ہیں اور ان میں صرف چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو منزل کو پالیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں انہیں میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی بھی تھے۔" (نگار بابت جولائی صفحہ نمبر دسمبر ۱۹۹۰ء صفحہ ۲۱ - ۲۲) کر شعرائے پنجاب میں لکھا ہے:۔میرزا ند کوره در جواب تبلیغات ضد اسلامی قیام نموده و بادلائل بسیار محکم و قاطع دشمنان اسلام را شکست داده " ( تذکره شعرائے پنجاب صفحہ ۲۶۰ ۲۶۱ مرتبہ خواجہ عبد الرشید صاحب ناشر بی۔اے ڈار مجید اقبال اکادمی کراچی ۲۹/ اکتوبر ۱۹۶۷ء) مرزا صاحب اپنی عادات میں سادہ اور فیاضانہ جذبات رکھتے تھے۔ان کی اخلاقی جرات جو انہوں نے اپنے مخالفین کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذارسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقینا قابل تحسین ہے۔صرف ایک مقناطیسی جذب اور دلکش اخلاق رکھنے والا شخص ایسے لوگوں کی دوستی اور روناداری حاصل کر سکتا ہے جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقاید کے لئے جان دے دی مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔“ (ترجمہ احمدیہ موومنٹ) لارنس ایمی براؤن پروفیسرز میات مانچسٹر یونیورسٹی " مرزا غلام احمد صاحب قادیانی پنجاب کے رہنے والے کئی امور میں ہمیں خود محمد ال ) کی یاد دلاتے ہیں۔دونوں نے ایک ایسے مضبوط روحانی تجربے کو اس طرح محسوس کیا کہ اس کے زیر اثر وہ دنیا کی اصلاح پر مامور کئے گئے ہیں۔(دی پراسپیکٹس آن اسلام ۱۲- یکی رسالہ "هما" جبلپور جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم نے سلسلہ احمدیہ مدعی موجود دم وا نہیں تک ایک طرف مسیحی مناظرین سے نبرد آزما تھے دوسری طرف قرآنی الفاظ کی عجیب و غریب صرفی و نحو موشگافیاں کر کے دیگر مسائل کی طرح وفات مسیح کے مسئلہ پر بڑے بڑے