تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 606 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 606

تاریخ احمدیت جلد ۲ ہیں۔۵۷۱ جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع پروفیسر سید عبد القادر صاحب ایم اے: نضرت مرزا غلام احمد نے مذہبی دنیا میں نہایت عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا۔ایسے وقت میں حضرت مرزا صاحب آئے جب کہ مسلمانوں کی مذہبی حالت نہایت بری ہو چکی تھی۔ایسی حالت میں حضرت مرزا صاحب نے مسلمانوں کو ابھارا اور مذہب کی طرف لوٹنے کی ترغیب دی۔اس مقصد میں انہیں کس قدر کامیابی ہوئی اس کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔" (حوالہ الفضل ۸/ مارچ ۱۹۱۹ء صفحہ ۳) خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی:۔مرزا غلام احمد صاحب اپنے وقت کے بہت بڑے فاضل بزرگ تھے۔آپ کی تصانیف کے مطالعہ اور آپ کے ملفوظات کے پڑھنے سے بہت فائدہ پہنچ رہا ہے اور ہم آپ کے تبحر علمی اور فضیلت و کمال کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔" اخبار منادی ۲۷/ فروری و ۴ / مارچ ۱۹۳۰ء) ۳۔مرزا فرحت اللہ بیگ صاحب: اب ایک ایسے شخص سے میرے ملنے کا حال سنئے جو اپنے فرقے میں ہی سمجھا جاتا ہے اور دوسرے فرقے والے خدا جانے اس کو کیا کچھ نہیں کہتے۔یہ کون ہے ؟ جناب مرزا غلام احمد قادیانی پانی فرقہ احمدیہ۔ان سے میرا رشتہ یہ ہے کہ میری خالہ زاد بہن ان سے منسوب تھیں۔اس لئے یہ جب کبھی دلی آتے تو مجھے ضرور بلا بھیجتے اور پانچ روپے دیتے۔چنانچہ دو تین دفعہ ان سے میرا لمنا جو انگر میں یقین دلاتا ہوں کہ انہوں نے کبھی مجھ سے ایسی گفتگو نہیں کی جس کو تبلیغ کہا جاسکے۔میں اس زمانہ میں ایف اے میں پڑھتا تھا۔زیادہ تر مسلمانوں کی تعلیم کا ذکر ہو تا تھا اور اس پر وہ افسوس ظاہر کیا کرتے تھے کہ مسلمان اپنی مذہبی تعلیم سے بالکل بے خبر ہیں۔اور جب تک مذہبی تعلیم عام نہ ہوگی اس وقت تک مسلمان ترقی کی راہ سے ہٹے رہیں گے۔میرے ایک چچا تھے جن کا نام مرزا عنایت اللہ بیگ تھا۔یہ بڑے فقیر دوست تھے۔تمام ہندوستان کا سفر فقیروں سے ملنے کے لئے کیا بڑی بڑی سخت ریاضتیں کیں۔چنانچہ اس سے ان کی محنت کا اندازہ کر لیجئے کہ تقریباً ۲۰ سال تک یہ رات کو نہیں سوئے۔صبح کی نماز پڑھ کر دو ڈھائی گھنٹے کے لئے سو جاتے ورنہ سارا وقت یا دائمی میں گزارتے۔ایک دن میں جو مرزا غلام احمد صاحب کے یہاں جانے لگا تو چا صاحب قبلہ نے مجھ سے کہا۔” بیٹا میرا ایک کام ہے وہ کردو۔اور وہ کام یہ ہے کہ جن صاحب سے تم ملنے جا رہے ہو ان کی آنکھوں کو دیکھو کس رنگ کی ہیں۔میں سمجھا بھی نہیں اس سے ان کا کیا مطلب ہے مگر جب مرزا صاحب کے پاس گیا تو بڑے غور سے ان کی آنکھوں کو دیکھتا رہا۔میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں سبز رنگ کا پانی گردش کرتا معلوم ہوتا ہے۔اسی سلسلے میں میں نے خود بھی انکو ذرا غور سے دیکھا کیونکہ اس سے پہلے جو میں ان کے پاس جا تا تھا تو ہمیشہ نیچی آنکھیں کر کے بیٹھتا تھا۔اس دفعہ میں نے دیکھا ان کا چہرہ بہت بارونق تھا۔سر پر کوئی دو انگل کے بال ہیں۔داڑھی خاصی نیچی ہے۔آنکھیں جھکی جھکی ہیں۔بات کرتے ہیں تو بہت متانت سے کرتے ہیں مگر بعض وقت جھلا بھی جاتے ہیں۔سر حال وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے چچا صاحب قبلہ سے تمام واقعات بیان کئے۔فرمت دیکھو اس شخص کو برابھی نہ کرنا۔فقیر ہے اور یہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہیں میں نے کہا یہ آپ نے کیونکر جانا۔فرمایا کہ جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال میں ہر وقت غرق رہتا ہے اس کی آنکھوں میں سبزی آجاتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ سبز رنگ کے پانی کی ایک لہران میں دوڑ رہی ہے۔میں نے اس وقت تو ان سے وجہ نہ پوچھی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ سب فقراء اور اہل طریقت اس پر متفق ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سبز ہے اس کا عکس آپ کے زیادہ خیال کرنے سے آنکھوں میں جم جاتا ہے۔" (عالمی ڈائجسٹ کراچی بابت اکتوبر ۱۹۷۸ صفحه ۷۳ - ۷۴) مولوی ظفر علی خان صاحب ہندو اور عیسائی مذہبوں کا مقابلہ مرزا صاحب نے نہایت قابلیت کے ساتھ کیا ہے۔آپ کی تصانیف "سرمہ چشم آریہ" چشمہ مسیحی " وغیرہ آریہ سماجیوں اور مسیحیوں کے خلاف نہایت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔" (زمیندار ۱۲ ستمبر ۱۹۲۳ء) - مولوی عبد المساجد صاحب دریا بادی