تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 605
تاریخ احمدیت جلد ۲ جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع کیونکہ اس شذرہ کا انداز تحریر اپنی قوت و شوکت کے اعتبار سے خود نشاندہی کر رہا ہے کہ اس کے لکھنے والے مولانا ابوالکلام آزاد ہی ہیں۔علاوہ ازیں مولانا آزاد کی خود نوشت سوانح " آزاد کی کمائی آزاد کی زبانی " (صفحہ ۳۱۰۰۳۰۹) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شاء آن ، آپ ہی ان دنوں اخبار "وکیل" کے ایڈیٹر تھے مگر مولانا عبد اللہ العمادی لکھنو میں رسالہ ” البیان کی ادارت کر رہے تھے اور انہوں نے ان دنوں الگ حضرت اقدس کی وفات پر اداریہ سپرد قلم کیا ( ملاحظہ ہو البیان، جولائی ۱۹۰۸ء)۔قریباً پچاس برس پہلے جماعت احمد یہ کلکتہ نے مولانا آزاد کے نام سے یہ شذرہ اشتہار کی شکل میں شائع کیا اور مولانا آزاد کو خاص طور پر بھیجوایا۔مگر اس وقت انہوں نے اس کی قطعا تردید نہیں کی۔(مولانا شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی چی نے اس تاریخی واقعہ سے متعلق ایک فیصلہ کن نوٹ لکھا تھا جو الفضل / جون ۱۹۱۳ء اور ان کی تالیف "حیات قمر الانبیاء" کے صفحہ ۲۷ تا ۲۸۱ میں شائع شدہ ہے۔حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جناب شیخ صاحب کی تحقیق کے بارہ میں لکھا " آپ کے معلومات بہت پختہ اور یقینی معلوم ہوتے ہیں ") ۱۵ بحواله بدر ۱۸ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۲-۳- اخبار مت لاہور / جنوری ۱۹۱ ء صفحه ۱۳ تان حواله اختبار الحکم جلد ۱۵ نمبرا - بحوالہ شعید الاذہان جلد ۳ نمبر ۰ ۱ صفحه ۳۸۳-۱۹۰۸ء حواله در ۲۵/ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۳ کالم نمبر ۲ بحوالہ پدر ۲۰/ اگست ۱۹۰۸ء صفحه، کالم نمبر ۲۱ بحوالہ شعید الا زبان جلد ۳ نمبر ۱۹۰۸۰۸ء صفحه ۳۳۲ ۲۰ بحوالہ حمید الا زبان جلد ۳ نمبر ۱۰ صفحه ۳۸۲ ہو۔حوالہ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۱۸۹ ۲۲ مفصل تبصرہ ملاحظہ ہو الحکم ۷/۱۴ جولائی ۱۹۳۶ء صفحہ کالم نمبر ۲ ۲۳ شهید الازمان ۱۹۰۸ء صفحه ۳۳۶ -۲۲ مردایت حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری ۲۵ بروایت حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری -۲۶ بحوالہ حمید الاذہان جلد ۳ نمبر ۱۹۰۸۰۱۰ء صفحه ۳۸۲ ے ہو۔بحوالہ شعید الازمان ۱۹۰۸ء صفحه ۳۳۴ ۲۸ بحوالہ شعید الازمان ۱۹۰۸ء صفحه ۳۳۴ ۲۹ بحوالہ شعید الا زبان ۱۹۰۸ء صفحه ۳۳۳ ۳۰ بحوالہ شعید الاذہان صفحه ۳۸۳ ۳۱ بحوالہ حمید الا زبان صفحه ۳۸۲ ۲ بحوالہ شعید الاذہان جلد ۳ نمیبره صفحه ۳۸۰-۳۸۲ ۳۳- بجواله پدر ۲ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ اکالم نمبر ۲-۳ ۳۴ بحوالہ عید الازمان ۱۹۰۸ء صفحه ۳۳۱-۳۳۲ ۳۵ بحوالہ حمید الازبان ۳۸۳ ۳۶- بحوالہ شعید الاذہان صفحه ۳۸۳ ۳۷- سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر خدا کے فضل سے حضور کی جلیل القدر شخصیت اور عظیم الشان خدمات کے اعتراف کا سلسلہ آج تک جاری ہے بلکہ جوں جوں صداقت کی روشنی پھیلتی جاتی ہے حضور کی مقدس ذات دنیا کی گری توجہ اور خاص دلچسپی کا مرکز بنتی جارہی ہے اور عالمی رحجانات بڑی تیزی سے اس حقیقت کی طرف آرہے ہیں کہ بیسویں صدی کی کوئی نہ ہی تاریخ آپ کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں کبھی جاسکتی بطور نمونہ چند آراء درج ذیل کی جاتی ہیں جن سے یہ بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضور کے وجود نے صفحہ عالم پر کتنے گہرے اور روشن نقوش قائم کر دیئے