تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 600
تاریخ احمدیت جلد ۳ 040 جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع نہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں نہ یہ اثر کسی مولوی اور نہ عالم و فاضل کو اپنے معتقدوں پر تھا اور نہ کسی صوفی اور ولی اللہ کا اپنے مریدین پر تھا اور نہ کسی لیڈر اور نہ کسی ریفارمر کا اپنے مقلدین پر۔چونکہ وہ مسلمانوں کی ایک کثیر جماعت کے پیشوا اور امام برحق تھے لہذا تہذیب مجبور کرتی ہے کہ ہم ان کی عزت کریں اور ان کے انتقال پر افسوس ظاہر کریں۔علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ " علیگڑھ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ " علی گڑھ نے لکھا کہ۔" مرحوم ایک مانے ہوئے مصنف اور مرزائی فرقہ کے بانی تھے۔۱۸۷۴ء سے ۱۸۷۷ء تک شمشیر قلم عیسائیوں ، آریوں اور برہمو صاحبان کے خلاف خوب چلایا۔آپ نے ۱۸۸۰ء میں تصنیف کا کام شروع کیا۔آپ کی پہلی کتاب اسلام کے ڈیفنس میں تھی جس کے جواب کے لئے آپ نے دس ہزار روپیہ انعام رکھا تھا۔آپ نے اپنی تصنیف کردہ اسی ۸۰ کتابیں پیچھے چھوڑی ہیں جس میں سے میں عربی زبان میں ہیں۔۔۔بیشک مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا۔" "صادق الاخبار " ریواڑی ¦ 14 ¦ " صادق الاخبار " ریواڑی نے لکھا کہ :۔مرزا صاحب نے اپنی پر زور تقریروں اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے لچر اعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا ہے اور کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کا کما حقہ ادا کر کے خدمت دین اسلام میں کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں کیا۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم حامی اسلام اور معین المسلمین فاضل اجل عالم بے بدل کی ناگہانی اور بیوقت موت پر افسوس کیا جائے۔" tt کرزن گزٹ دہلی یونین گزٹ بریلی "کردن گزٹ" دہلی کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی نے لکھا کہ :۔33 مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔۔۔اگر چه مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔۔۔اس کا پر زور لٹریچر اپنی