تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 599 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 599

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۶۴ جماعت احمد یہ کا خلافت پر پہلا اجماع " تهذیب النسواں " لاہور سید ممتاز علی صاحب امتیاز نے لکھا:۔" مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دلوں کو تسخیر کر لیتی تھی۔وہ نہایت با خبر عالم بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔ہم انہیں نہ ہبا مسیح موعود تو نہیں مانتے تھے لیکن ان کی ہدایت و رہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تھی۔" اخبار "زمیندار" لاہور منشی سراج الدین صاحب (والد مولوی ظفر علی خاں صاحب) ایڈیٹر " اخبار "زمیندار" نے لکھا:۔مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۲۰ء یا ۱۸۶۱ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۲ ۲۴ سال کی ہوگی اور ہم چشمدید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہو تا تھا، عوام سے کم ملتے تھے۔۱۸۷۷ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے یہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی ان دنوں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محود مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔۱۸۸۱ء یا ۱۸۸۲ ء میں آپ نے براہین احمدیہ کی تصنیف کا اعلان کر دیا اور ہم اس کتاب کے اول خریداروں میں سے تھے۔ہم بارہا کہہ چکے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ آپ کے دعاوی خواہ دماغی استغراق کا نتیجہ ہوں مگر آپ بناوٹ اور انتزاء سے بری تھے۔مسیح موعود یا کرشن کا اوتار ہونے کے دعاوی جو آپ نے کئے ان کو ہم ایسا ہی خیال کرتے ہیں جیسا کہ منصور کا دعویٰ انا لحق تھا۔۔۔۔گو ہمیں ذاتی طور پر مرزا صاحب کے دعادی یا الہامات کے قائل اور معتقد ہونے کی عزت حاصل نہ ہوئی مگر ہم ان کو ایک پکا مسلمان سمجھتے تھے۔"البشیر "اٹاوہ نے لکھا کہ :۔والبشیر اٹاوہ اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ حضرت اقدس اس زمانہ کے نامور مشاہیر میں سے تھے۔اس ترقی علوم و فنون کے زمانہ میں در حقیقت یہ امر کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہے کہ ان کے کئی لاکھ راسخ الاعتقاد مرید ایسے تھے جو ان کے ہر ایک حکم کو ہر ایک پیشگوئی کو وحی خیال کرتے اور بلا چون و چرا تسلیم کرتے تھے۔ان مریدوں میں عوام الناس اور جہلا پڑھے لکھے ، غریب و امیر عالم و فاضل اور نئے تعلیمیافتہ غرضکہ ہر درجہ اور ہر حیثیت کے مسلمان موجود ہیں جو درجہ کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کو اپنے مریدوں میں حاصل تھا اور جو اثر کہ حضرت اقدس کا اپنے مریدوں کی جماعت پر تھا اس میں کچھ کلام