تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 47 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 47

تاریخ احمد مولوی محمد حسین صاحبہ بٹالو الْعُدُةُ وَأَسْبَابُهُ - وَيْلٌ لَهُمْ أَنَّى يُو فَكُونَ - يَعُضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وَيُوثَقُ إِنَّ اللهَ مَعَ الْأَبْرَارِ وَإِنَّهُ عَلَى نَصْرِ هِمَ لَقَدِيرُ - شَاهَتِ الْوُجُوهُ - إِنَّهُ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُ فَتْحٌ عَظِيمٌ یعنی خدا پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے اور تو پر ہیز گاروں کے ساتھ ہے اور تو میرے ساتھ ہے اے ابراہیم میری مدد تجھے پہنچے گی۔میں رحمان ہوں۔اے زمین! اپنے پانی کو یعنی خلاف واقعہ اور فتنہ انگیز شکایتوں کو جو زمین پر پھیلائی گئی ہیں نکل جا۔پانی خشک ہو گیا اور بات کا فیصلہ ہوا۔تجھے سلامتی ہے یہ رب رحیم نے فرمایا اور اے ظالمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔ہم نے دشمن کو مغلوب کیا اور اس کے تمام اسباب کاٹ دیئے۔ان پر واویلا ہے کیسے افتراء کرتے ہیں۔ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا اور خدا نیکوں کے ساتھ ہو گا۔وہ ان کی مدد پر قادر ہے۔منہ بگڑیں گے۔خدا کا یہ نشان ہے اور یہ فتح عظیم ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ رویا اور الہامات مقدمہ کے دوران ہی میں ”حقیقتہ المہدی " میں ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء کو شائع فرما دئیے اور لکھا ” جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خواب میں ایک پتھر کو بھینس بنا دیا اور اس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں اسی طرح انجام کار وہ میری نسبت حکام کو بصیرت اور بینائی عطا کرے گا اور وہ اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔یہ خدا کے کام ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔" ٣٥ بسفر پٹھانکوٹ اس مقدمہ کے دران حضور کو چوتھا سفر پٹھانکوٹ کی طرف پیش آیا۔حضرت اقدس علیہ السلام ۱۳ / فروری کو علی الصبح اپنے خدام کے ہمراہ قادیان سے بٹالہ لکھا پہنچے اور بذریعہ ریل پٹھانکوٹ تشریف لے گئے۔مولف "مجدد اعظم " جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے اس سفر کا ایک ایمان افروز واقعہ یہ ہے کہ ”اتفاق ایسا ہوا کہ جس مقام پر مسٹرڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کا خیمہ لگا ہوا تھا اس کے نزدیک ہی ایک مکان میں حضرت مرزا صاحب جا کر قیام پذیر ہوئے۔راجہ غلام حیدر خاں صاحب جو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے مقدمہ کے دوران میں مسٹر ڈگلس کے مسل خواں تھے ان دنوں وہ پٹھانکوٹ میں تحصیل دار تھے انہوں نے حضرت مرزا صاحب کے قیام کے اہتمام میں خاص حصہ لیا۔حضرت مرزا صاحب کی جائے سکونت اور ڈپٹی کمشنر کے خیمہ کے درمیان میں ایک میدان تھا جہاں حضرت مرزا صاحب اور آپ کے احباب نماز باجماعت پڑھا کرتے تھے۔مغرب کا وقت تھا مغرب کی نماز کے لئے حضرت اقدس میدان میں تشریف لائے اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی حسب معمول امام بنے۔انہوں نے نماز میں جو قرآن پڑھنا شروع کیا تو ان کی بلند مگر خوش الحان اور اثر میں