تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 46
تاریخ احمد بیست جلد ۲ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی گئے۔نماز کے بعد لوگوں کا ہجوم بہت ہو گیا چلنے کو راستہ نہ ملتا تھا۔آخر عبادت علی نام ایک صاحب نے کہا کہ حضور لوگ دور دور سے کاروبار چھوڑ کر آئے ہیں حضور پل پر کھڑے ہو کر سب کو زیارت کرا دیں۔چنانچہ حضور انور چند منٹ پل پر رونق افروز رہے۔دھار یوال سے کھنڈہ تک لوگوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا۔رستہ میں بیسیوں آدمی دوڑتے جاتے تھے اور پوچھتے جاتے تھے کہ سرکار ابھی روانہ تو نہیں ہوئے۔حضرت اقدس تھوڑی دیر کھنڈہ میں ٹھہر کر براہ راست قادیان تشریف لے آئے۔حضور کے ہمراہ کوئی ستر اسی خدام ہوں گے۔ادھر تو خدائی قبولیت کا یہ زبر دست نشان نمودار ہوا ادھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی حالت یہ تھی کہ گورنمنٹ کے منظور نظر اور اہل حدیث کے ایڈووکیٹ نے دھاریوال میں جمعہ کے وقت چند آدمیوں کے ہمراہ ایک جگہ کھڑے ہو کر اونچی آواز سے پکارا کہ جو مسلمان ہے وہ نماز پڑھ لے مگر نماز کی تیاری کے وقت ان کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کی تعداد میں سے بڑھ نہ سکی۔اپنی بریت اور ظالم فریق کے ناکام ہونے کی بشارت داریو ال سے واپسی کے بعد ۳ / فروری ۱۸۹۹ء کو حضور کو بذریعہ رویا بشارت دی گئی کہ آپ بری ہوں گے اور دشمن ناکام ونامراد رہیں گے چنانچہ حضور نے ۵ / فروری ۱۸۹۹ء کو ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو ایک مکتوب میں لکھا کہ " اب فوجداری مقدمہ کی تاریخ ۱۴ / فروری ۱۸۹۹ ء ہو گئی ہے دراصل بات یہ ہے کہ اب تک یہی معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کی نیست بخیر نہیں۔جمعہ کی رات مجھے یہ خواب آئی ہے کہ ایک لکڑی یا پتھر کو میں نے جناب الہی میں دعا کر کے بھینس بنا دیا ہے اور پھر اس خیال سے کہ ایک بڑا نشان ظاہر ہوا ہے سجدہ میں گرا ہوں اوربلند آواز سے کہتا ہوں ربی الاعلی رہی الا علی۔میرے خیال میں ہے کہ شاید اس کی تعبیر یہ ہو کہ لکڑی اور پتھر سے دہی سخت اور منافق طبع حاکم (مراد) ہو اور پھر میری دعا سے اس کا بھینس بن جانا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمارے لئے ایک مفید چیز بن گئی ہے جس سے دودھ کی امید ہے۔اگر یہ تاویل درست ہے تو امید قوی ہے کہ مقدمہ پلٹا کھا کر نیک صورت پر آجائے گا اور ہمارے لئے مفید ہو جائے گا۔اور سجدہ کی تعبیر یہ لکھی ہے کہ دشمن پر فتح ہو۔الہامات بھی اس کے قریب قریب ہیں۔" اس سلسلہ میں ۱۸ جنوری ۱۸۹۹ء کو بعض الہامات بھی ہوئے جن میں سے چند یہ تھے: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ - أَنْتَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَأَنْتَ مَعِرَ يَا ابْرُ هِيمُ - يَأْتِيكَ نُصْر تِن اِنّى اَنَا الرَّحْمَنُ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ غِيْضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ - سَلَامٌ قَوْ لَا مِنْ رَبِرَ حِيمَ وَامْتَارُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ إِنَّا تَجَالَدْنَا فَانْفُطِعَ