تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 48
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۸ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی ڈوبی ہوئی آواز مسٹر ڈوئی کے کان میں پڑی وہ اپنے خیمہ کے آگے کھڑے ہوئے اور ایک انہماک کے عالم میں کھڑے قرآن سنتے رہے جب نماز ختم ہوئی تو راجہ غلام حیدر خان صاحب تحصیلدار پٹھانکوٹ کو بلا کر پوچھا کہ آپ کی ان لوگوں سے واقفیت ہے انہوں نے عرض کیا کہ ہاں کہا کہ میں نے ان لوگوں کو نماز میں قرآن پڑھتے سنا ہے میں اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ حد سے باہر ہے۔اس قسم کا ترنم اور اثر میں نے کسی کلام میں نہیں سنا اور نہ کبھی محسوس کیا۔کیا پھر بھی یہ نماز پڑھیں گے اور مجھے نزدیک سے سننے کا موقع دیں گے۔؟ راجہ غلام حیدر خان صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کل ماجرا عرض کیا۔آپ نے فرمایا ہمارے پاس بیٹھ کر قرآن سنیں چنانچہ اب کی دفعہ نماز کے وقت ایک کرسی قریب بچھادی گئی اور صاحب بہادر آکر اس پر بیٹھ گئے۔نماز شروع ہوئی اور مولوی عبد الکریم صاحب نے قرآن پڑھنا شروع کیا اور صاحب بہادر مسحور ہو کر جھومتے رہے۔بالا خر ۲۴ / فروری ۱۸۹۹ء کا دن آپہنچا۔مقدمہ کا فیصلہ حضور کی بریت اور کامیابی اس دن حضرت اقدس اپنے احباب کے ساتھ کثیر تعداد میں گورداسپور میں فیصلہ سننے کے لئے تشریف لے گئے۔مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے دوست خوش تھے کہ آج ہمارا حریف عدالت کے کٹہرے میں مجرم قرار پائے گا اور انہیں فتح عظیم حاصل ہوگی۔مگر جیسا کہ آپ کو قبل از وقت بتایا گیا تھا۔اب وہ پتھر دل حاکم آپ کی دعا کی برکت سے ایک منصف و عادل کی شکل میں بدل چکا تھا۔چنانچہ اس نے حضرت اقدس کی شائستہ اور متین تحریرات کے مقابل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ابو الحسن تبتی کے دشنام آلود اشتہارات دیکھے تو وہ ہکا بکا رہ گیا اور اس نے پولیس کا بڑی محنت سے بنایا ہوا مقدمہ خارج کر دیا اور فریقین سے اس مضمون کے ایک نوٹس پر دستخط کرائے کہ " آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب نہ کہے کوئی کسی کو مباہلہ کے لئے نہ بلاوے اور قادیان کو چھوٹے کاف سے نہ لکھا جاوے اور نہ بٹالہ کو طا کے ساتھ۔اور ایک دوسرے کے مقابل پر نرم الفاظ استعمال کریں۔بد گوئی اور گالیوں سے مجتنب رہیں اور ہر ایک فریق حتی الامکان اپنے دوستوں اور مریدوں کو بھی اس ہدایت کا پابند کرے اور یہ طریق نہ صرف باہم مسلمانوں میں بلکہ عیسائیوں میں بھی یہی چاہیے۔" حضرت اقدس سے مسٹر جے ایم ڈوئی نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "وہ گندے الفاظ جو محمد حسین اور اس کے دوستوں نے آپ کی نسبت شائع کئے آپ کو حق تھا کہ عدالت کے ذریعہ سے اپنا انصاف چاہتے اور چارہ جوئی کراتے اور وہ حق اب تک قائم ہے "