تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 45 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 45

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۵ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی السلام کی آوز اٹھی اور سننے والوں پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ذرا اور آگے جب ڈاک خانہ کے متصل پہنچے تو دھاریوال کے مشہور اون کے کارخانہ کے ہندو مسلمان ملازم اور ڈاک خانہ کے کلرک دو ڑ کر آگے آئے اور کیمپ کا پتہ بتایا۔راستہ میں حضرت اقدس نے صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) کی ایک مبشر رویا جلائی۔نہر کے پل پر پہنچ کر کیمپ نظر آگیا۔چیرا سیوں اور اردلیوں نے وفور شوق سے سلام کیا۔حضور آگے آگے جارہے تھے اور پیچھے خلقت کا ایک انبوہ تھا۔نہر اور درختوں کا نظارہ دیکھ کر فرمایا " بہت اچھی جگہ ہے اور پھر خیمہ سے کوئی سو قدم کے فاصلہ پر اتر پڑے۔آپ بیٹھ گئے اور حضور کے مخلصین بھی ارد گرد حلقہ بنا کر مئودبانہ بیٹھ گئے۔ابھی چند منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ خلقت کے انبوہ در انبوہ آتے گئے اور چند ہی منٹوں میں کوئی تین چار سو آدمی جمع ہو گیا یہاں تک کہ بعض احباب نے لوگوں کو ہٹانا چاہا تو انہوں نے کہا کہ اسیں جیارت کرن آئے ہاں تسی سانوں ہٹاؤندے ہو۔کم کار چھڑ کے کیناں کو ہاں توں چلے آئے ہاں۔یعنی ہم کاروبار چھوڑ کر کئی میلوں سے زیارت کے لئے آئے ہیں اور آپ روکتے ہیں۔اس پر کسی کو کچھ نہ کہا گیا اور یہ مجمع اس قدر بڑھا کہ حضور کو بیٹھنا ہی دشوار ہو گیا اور آپ اٹھ کر ملنے لگے۔اس دن آنے والوں کی تعداد حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب کے ایک محتاط اندازے کے مطابق جو بحیثیت اخبار نویس موجود تھے دراڑھائی ہزار تک پہنچی ہوئی تھی۔حضور بارہ بجے کے قریب عدالتی خیمہ میں تشریف لے گئے۔حضرت اقدس کی طرف سے پہلے وکلاء ہی پیش ہوئے مگر مولوی محمد حسین صاحب آج ایک نئے قانونی مشیر مسٹر ہر برٹ پیروی کے لئے لائے جنہوں نے عذرداری پیش کی کہ جدید ضابطہ کی رو سے ایک ہی وقت پر فریقین کا مقدمہ سماعت نہیں ہو سکتا چنانچہ اس قانون کی وجہ سے مقدمہ کی اگلی تاریخ سماعت ۱۴ / فروری مقرر ہوئی اور ڈپٹی کمشنر صاحب نے سب سے پہلے حضرت کا مقدمہ سننے کا حکم دیا اور دوبارہ نوٹس بھیجنے کا حکم دیا۔گویا سابقہ کار روائی کا لعدم قرار دے دی گئی۔بہر حال حضور علیہ السلام عدالت سے فراغت کے بعد باہر تشریف لائے اور نماز جمعہ کی تیاری فرمائی۔ڈیڑھ ہزار افراد نے نماز جمعہ ادا کی۔خطبہ حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب نے پڑھا جو نہایت لطیف اور بے حد پر درد اور اثر انگیز تھا۔نماز کے وقت تک کارخانہ کے مزدور اور دوسرے لوگوں کا پھر ایک عظیم اجتماع ہو گیا۔آخر نماز ادا ہوئی تو کار خانہ کے بعض انگریزی افسر بھی شوق زیارت میں بیتاب ہو کر کچھے کچھے چلے آئے اور انہوں نے آرزو ظاہر کی کہ آپ اپنی زیارت سے مشرف کریں۔چنانچہ حضور سامنے آکھڑے ہوئے اور وہ انگریز کافی دیر تک حضور کے نورانی چہرہ کا دیدار کرتے رہے۔پھر نماز عصر کے لئے جماعت کھڑی ہوئی تو وہ چلے