تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 580
احمد بیت - جلده ۶ 545 ہونا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک بناز وہ تدفین نقشه مقام وصال سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام (بمطابق ماه مئی ۱۹۰۸ء) نوٹ : یہ سرسری خاکہ دوسری منزل کا ہے جو سلسلہ کے متعدد قدیم بزرگوں کی مجموعی شہادتوں کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔اس کی تیاری میں حضرت قمر الا نبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بد قلما العالی نے خاص طور پر مدد دی ہے۔فجزاهم الله تعالی کیلوں والی سڑک گراوٹ اسلامیہ کا نیچ بظروف استیش رواقره و مکڑی کا پیر نماز اور ملاقات کا کمرو دیواره رہائشی کمره پیلنگ بوقت صال + # دروازه دروازه دروازه عزیز منزل مکان خواجہ کمال الدین صاحب بنی۔۲۵ مئی کی شام کو پلنگ یہاں رکھا تھا۔حضور نے اسی وان مغرب و عشاء کی نمازیں خود اس جگہ پڑھائی تھیں بالائی صحن و مسکان سید محمد حسین شاه صاحب اس کیمیکل دیگر این نایاب جہاں عام طور پر حضور علیہ السلام کی گاڑی کھڑی ہوتی تھی۔دروازه ایل ایل بی وکیل چینی کورٹ پنجاب حضرت حکیم الامت مولوی اور ادیان شنان اور حضرت پیر منظور محمد صاحبان کے اور حضرت پیر منظور محمد صاحب کے سائٹی کرے اسی کو مسٹر لفضل حسین صاحب کی ملاقات اس جگہ ہوئی تھی اس وقت گلی میں چار پائیاں بھاری گئی تھیں (ہدایت مولوی فضل الدین صاحب وکیل را حکم ۱۴ اکتوبر ۱۹۳۶ء صفحه ۵) لتا (ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کی روایت کے مطابق) ، امئی کو روسائے لاہور کی دعوت طعام کا انتظام اس کمرہ میں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی اطلاع پر حضرت مولوی نور الدین صاحب اس کرنے میں آئے اور حضور کی پیشانی مبارک کو بوسہ دے کر باہر تشریف لے گئے۔جو نبی حضرت مولوی صاحب کا قدم اس دروازه است با هر اوا، مولوی سید محمد احسن صاحب نے رقت بھری آواز میں حضرت مولوی صاحب سے کہا انت سدیقی۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا مولوی صاحب یہاں یہ سوال رہنے دیں قاریان جا کر فیصلہ ہوگا۔(سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم صفحه ۱۴)