تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 581
ریسته جلد ۲ ۵۴۶ سید نا حضرت مسیح موعود کار سال مبارک جنازه و تدفین اور جس کا ہر لفظ زندگی کی ایک نئی روح پیدا کر دیتا تھا ہم سے کبھی جدا ہو سکتا ہے۔یہاں تک کہ جو تار بیرونی جماعتوں کی اطلاع کے لئے لاہور سے دیئے گئے تھے اور استدعا کی گئی تھی کہ لوگ جنازہ کے لئے فور آقادیان پہنچ جائیں انہیں بھی اکثر لوگوں نے چھوٹ سمجھا اور گودہ قادیان آئے مگر صرف احتیاط کے طور پر آئے اور اس خیال سے آئے کہ جھوٹ کا پول کھولیں۔) اہل قادیان کی یہ حالت تھی کہ یہاں خواجہ کمال الدین صاحب کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو شام کے پانچ بچے کے قریب تار مل گیا تھا اس کے باوجود کسی کو حضور کی وفات کا یقین نہ آتا تھا بلکہ شبہ گزرا کہ شاید یہ کسی دشمن کا تار ہو۔کسی نے کہا کہ کوئی آدمی بٹالہ بھیجا جائے جو لاہور سے بذریعہ تار اصل حالات معلوم کرے۔اسی دوران مسجد مبارک میں ایک مجمع ہو گیا۔عین اس وقت چوہدری نعمت اللہ صاحب گوہر جو صبح نو بجے تک احمد یہ بلڈ نگس ہی میں تھے لاہور سے صبح دس بجے کی گاڑی سے چل کر قادیان پہنچ گئے انہوں نے حضور کی شدید علالت کا کھول کر ذکر کیا اور وہ الہامات جو حضور علیہ السلام کو دو تین روز پیشتر ہوئے تھے حاضرین کو سنائے تب کہیں لوگوں کو یقین آیا که حضور فی الواقعہ انتقال فرما گئے ہیں۔یہ معلوم کر کے قادیان اس طرح غم کدہ بن گیا جس طرح صبح ساڑھے دس بجے احمد یہ بلڈ نگر کی سرزمین بن گئی تھی۔مغرب کی نماز میں مسجد مبارک کی چھت پر آه و بکا اور گریہ وزاری سے محشر سا بپا تھا اور نمازیوں کے منہ سے نماز کے فقرات بھی پوری طرح نہیں نکل سکتے تھے۔آنسوؤں کی شدت گلے میں گرہ ڈال دیتی تھی۔غرض کہ جہاں جہاں یہ خبر پہنچی حضور کے خدام مارے غم کے دیوانے ہو گئے اور وہ سچ سچ سمجھتے تھے کہ ہم یتیم ہو گئے ہیں۔کوئی آنکھ نہ تھی جو اشکبار نہ ہو اور کوئی دل نہ تھا جو شدت غم سے پارہ پارہ نہ ہو رہا ہو آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو خود بخود بہتا آرہا تھا۔اس درد ناک منظر کا نقشہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ "آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی اس کا حال اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تو تیار تھے کہ اپنے حواس کو مختلف مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں دشوار و ناگوار تھا کہ ان کا حبیب ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔پہلے مسیح کے حواریوں اور اس مسیح کے حواریوں کی اپنے مرشد کے ساتھ محبت میں یہ فرق ہے کہ وہ تو مسیح کے صلیب سے زندہ اتر آنے پر حیران تھے اور یہ اپنے مسیح کے وصال پر ششد ر تھے۔ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح زندہ کیونکر ہے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح فوت کیونکر ہوا ؟ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم انسین ہو کر آیا تھا اس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ