تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 579
تاریخ احمدیت جلد ۲ مسم سید نا حضرت مسیح موعود کا وصال مبارک جنازه رند نمین کوئی خاص مجلس ہو۔مولوی عبد الکریم صاحب دروازے کے پاس آئے اور مجھے کہا بی بی جاؤ ابا سے کہو کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ تشریف لائے ہیں آپ کو بلاتے ہیں۔میں اوپر گئی اور دیکھا کہ پلنگ پر بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت تیزی سے لکھ رہے تھے اور ایک خاص کیفیت آپ کے چہرہ پر ہے پر نور اور پر جوش۔میں نے کہا ابا مولوی عبد الکریم" کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔آپ نے لکھتے لکھتے نظر اٹھائی اور مجھے کہا کہ جاؤ کہو" یہ مضمون ختم ہوا اور میں آیا۔" ٹھیک میں الفاظ تھے اور وہی نظارہ میری آنکھوں میں اس آخری شام کو پھر گیا۔“ (مکتوب ۱۹- جون ۱۹۷۹ء بنام مولف) اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى إِلى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ سیدنا حضرت مسیح موعود کے عشاق کی حالت کا درد ناک منظر حضور کی وفات کی خبر بجلی طرح شہر میں پھیل گئی۔احمد یہ جماعتوں کو بذریعہ تار اس حادثہ کی اطلاع دے دی گئی اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ جنازہ کے لئے قادیان پہنچیں۔اسی دن یا دو سرے روز اخبارات کے ذریعہ سے تمام ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر ملی۔یہ محض خبر نہیں تھی ایک قیامت تھی جو آنا فانا آئی جس نے حضور کے خدام کے دل و دماغ پر ایک زلزلہ طاری کر دیا۔ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور بار جو دیکہ خدا کا پیارا انہیں خدائی الہامات سنا سنا کر اپنی واپسی کی متواتر اطلاع دیتا آرہا تھا اور دو سال پہلے الوصیت بھی لکھ دی تھی مگر اس کے پروانے یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ہمارا شاہد ہمارا رازداں، مجسمہ رحم و شفقت محبوبوں کا محبوب ، باپ سے بڑھ کر شفیق د غمگسار، جس کے نورانی چہرہ پر ایک نظر سے غموں کی گھٹا میں پاش پاش ہو جاتی تھیں۔