تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 44
تاریخ احمدیت جلد ۲ سمسم مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شورش اور ناکامی اس بیان میں حضور نے مولوی محمد حسین صاحب اور جعفر زٹلی کی اشتعال انگیز تحریرات کے متعدد نمونے بھی پیش کئے۔تیسرا سفر دھار یوال حضرت اقدس نے ۲۵/ جنوری ۱۸۹۹ء کی رات ہی کو علی الصبح روانگی کا حکم دے دیا تھا چنانچہ حسب معمول حکیم فضل دین صاحب بھیروی کے اہتمام میں روانگی کا انتظام ہوا۔حضرت اقدس براہ راست پالکی سے اجے دھاریوال روانہ ہوئے۔حضور کے ہمراہ سیٹھ اللہ رکھا عبد الرحمن صاحب مدراسی بھی تھے۔چونکہ دھاریوال میں حضور کی جائے قیام کے لئے کوئی انتظام مشکل تھا اس لئے میاں نبی بخش صاحب نمبردار بٹالہ میاں عبد العزیز صاحب او جلوی ( پٹواری)، میاں جمال الدین صاحب سیکھوائی اور میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی وغیرہ نے دھاریوں سے ایک میل کے فاصلہ پر موضع لیل میں حضرت اقدس اور دیگر احباب جماعت کے قیام و طعام کا ایک وسیع مکان میں انتظام کر لیا تھا اور وہاں ہیں پچیس دوست پہنچ بھی چکے تھے اور حضور کا ارادہ بھی لیل ہی میں قیام فرمانے کا تھا مگر رستہ میں ہی سردار جیل سنگھ کی بیوہ بہو رانی ایشور کور صاحبہ کا مخلصانہ پیغام آیا کہ حضور یہاں موضع کھنڈہ میں قیام فرمائیں۔حضرت اقدس نے ان کے جوش اخلاص کی وجہ سے یہ درخواست منظور فرمائی اور کھنڈہ کی طرف روانہ ہو گئے۔لیل کے دوست بہت حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے مگر اس میں بھی خدائی مصلحت تھی۔سنا گیا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی رہیں اترنے والے ہیں خدا نے چاہا کہ آپ کا قیام کسی دوسری جگہ ہو اور اس کے لئے خدا نے رانی ایشور کور صاحبہ کو تحریک کردی۔بہر حال حضرت اقدس میل سے کھنڈہ تشریف لے گئے۔تھوڑی دیر کے بعد رانی ایشور کور صاحبہ نے اپنے اہل کاروں کے ہاتھ مصری اور باداموں کا ایک تھال حضور کی نذر کیا جسے حضور نے منظور فرمالیا۔لیل میں جو دوست تھے وہ بھی اطلاع ملنے پر آپہنچے۔اس کے بعد ایک وسیع مکان میں رانی صاحبہ نے پر تکلف دعوت دی اور مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا۔دعوت کے بعد منشی محمد علی صاحب پٹواری نے بیعت کی۔رات کو حسب سابق گاڑی۔کپور تھلہ، جالندھر، جہلم اور لاہور وغیرہ مقامات سے بکثرت احباب پہنچ گئے اور اچھا خاصا اجتماع ہو گیا۔دو سرے دن یہ مقدس قافلہ جس کے سالار امام الزمان تھے کھنڈہ سے دھاریوال کے عدالتی کیمپ کی طرف روانہ ہوا۔حضرت اقدس معہ رفقاء ریلوے کی سڑک گزر کر دھاریوال کے کارخانہ کے ساتھ گزرتے ہوئے آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک ہجوم حضور کے استقبال کے لئے چشم براہ ہے۔پاس پہنچے تو انہوں نے السلام علیکم کی پر جوش آواز سے خیر مقدم کیا۔ادھر سے بھی اسی لہجہ کے ساتھ علیکم