تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 554 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 554

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۱۹ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ امریکن سیاح قادیان میں ۷ اپریل ۱۹۰۸ء کو قادیان میں شکاگو کے ایک سیاح مسٹر جارج ٹرنر اپنی لیڈی مس بارڈون اور ایک سکاچ مین ، مسٹر بانسر کے ہمراہ قریبا دس بجے قادیان آئے۔مسجد مبارک کے نیچے دفاتر میں ان کو بٹھایا گیا۔اور چونکہ انہوں نے حضرت اقدس سے ملاقات کرنے کی درخواست کی تھی اس لئے حضرت اقدس بھی رہیں تشریف لے آئے۔ڈپٹی مجسٹریٹ علی احمد صاحب ایم۔اے اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ترجمان بنے۔سیاح نے سلسلہ کلام شروع کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ نے مسٹرڈوئی کو کوئی چیلنج دیا تھا۔کیا یہ درست ہے؟ اس کے جواب میں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں یہ درست ہے۔ہم نے ڈوئی کو چیلنج دیا تھا۔اس کے بعد سوال و جواب کا ایک سلسلہ جاری ہو گیا۔کچھ دیر بعد امریکن سیاح نے سوال کیا کہ آپ نے جو دعوی کیا ہے اس کی سچائی کے دلائل کیا ہیں ؟ حضور علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ خود آپ کا اتنے دور دراز ممالک سے یہاں اک چھوٹی سی بستی میں آنا بھی ہماری صداقت کی ایک بھاری دلیل ہے کیونکہ ایسے وقت میں جب کہ ہم بالکل گمنامی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو ا يَا تُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَيَاتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی اس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہو جائیں گے اور خدا کی مدد ایسی راہوں سے آئے گی کہ وہ لوگوں کے بہت چلنے سے گہرے ہو جائیں گے سیاح نے سوال کیا کہ آپ کے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ حضور نے مفصل جواب دیا۔اس گفتگو کے بعد ان کے سامنے کھانا رکھا گیا۔اس دوران میں انہوں نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے پوچھا کہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد کیا ہو گا۔مفتی صاحب نے کہا ” وہ ہو گا جو خدا کو منظور ہو گا اور جو ہمیشہ انبیاء کی موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔" کھانے کے بعد یہ لوگ مدرسہ تعلیم الاسلام میں گئے جہاں ایک طالب علم نے سورۂ مریم کی ابتدائی آیات نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور رخصت ہو کر بٹالہ چلے گئے۔121