تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 553 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 553

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۱۸ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخر کی سالانہ جلسہ السلام نے جو (جو صف کے سرے پر کھڑے تھے) استقبال کیا۔کمشنر صاحب نے ان سے مدرسہ کے حالات دریافت کئے۔آگے چبوترہ پر جماعت احمدیہ کے معزز اراکین بیٹھے تھے جن میں سے اکثر وہ تھے جو خاص طور پر اس تقریب کے لئے باہر سے آئے تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے ان کا تعارف کروایا اور خواجہ کمال الدین صاحب نے جماعت کی طرف سے شام کے کھانے کی پیش کش کی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔چنانچہ حضور کے ارشاد کے مطابق لنگر سے پکا پکا یا کھانا کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔حضرت اقدس نے فنانشل کمشنر صاحب کی ملاقات اثنائے گفتگو میں فنانشل کمشنر صاحب نے حضرت اقدس سے ملاقات کے لئے خواہش کا اظہار کیا تھا۔چنانچہ حضور اپنے بعض خدام کے ساتھ شام کے پانچ بجے تشریف لے گئے۔اس وقت عجب نظارہ تھا کیمپ کے ارد گرد مخلوق خدا کا کا ایک تانتا بندھا تھا فنانشل کمشنر صاحب نهایت اخلاق و اکرام سے احتراما آگے آئے اور اپنے خیمہ کے دروازہ پر حضور کا شایان شان استقبال کیا۔حضرت اقدس اور دوسرے احباب کرسیوں پر بیٹھ گئے اور نہایت اچھے ماحول میں سلسلہ کلام شروع ہوا۔حضور پون گھنٹہ تک اسلام کی خوبیوں اور اپنے سلسلہ کے اغرض و مقاصد مختلف امور پر گفتگو فرماتے رہے۔فنانشل کمشنر صاحب حضور کی ملاقات پر بہت ہی خوش ہوئے۔زاں بعد حضور واپس تشریف لے آئے۔واپسی پر اتنا ہجوم تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔خدام نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر حضور کے ارد گرد حلقہ بنالیا۔حضور بہت ہشاش بشاش تھے۔رستہ میں حضور نے خود ہی بتایا ہم نے خوب کھول کھول کر فنانشل کمشنر کو اسلام کی خوبیاں سنائیں اور اپنی طرف سے حجت پوری کر دی۔مہدی خونی کے کے بارے میں بھی صاحب نے سوال کیا ہم نے بتایا کہ ہمارے فلاں فلاں رسالہ کو دیکھو۔ہم خونی مہدی کے عقیدہ کو غلط سمجھتے ہیں ہمارا ایسی عقیدہ ہے کہ دین اسلام دلائل قویہ اور نشانات آسمانی سے پھیلا ہے اور اسی سے آئندہ پھیلے گا۔اور جو جنگیں اسلام میں ہو ئیں وہ سب دفاعی تھیں۔اسلام کا تلوار سے پھیلنے کا غلط عقیدہ مخالفوں کی اختراع ہے۔صاحب فنانشل کمشنر نے اور بھی باتیں کرنا چاہیں وہ دنیاوی باتیں تھیں۔میں نے کہا آپ دنیاوی حاکم ہیں خدا نے ہمیں دین کے لئے روحانی حاکم بنایا ہے جس طرح آپ کے وقت کاموں کے مقرر ہیں اسی طرح ہمارے بھی کام مقرر ہیں اب ہماری نماز کا وقت ہو گیا۔ہم کھڑے ہو گئے۔فنانشل کمشنر بھی کھڑے ہو گئے اور خوش خوش ہمارے ساتھ خیمہ تک باہر آئے اور ٹوپی اتار کر سلام کیا اور ہم چلے آئے۔|rr|