تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 555 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 555

تاریخ احمدیت به جلد ۲ د ۲۹ دسمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۵ کالم نمبر ۳۲ پد ۹۷/ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۲ کالم نمبر ۲-۳ ۵۲۰ حواشی حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ بار / جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۲ کالم نمبر ۳۰۲ - بدر ۹/ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۱۲ کالم نمبر۔۱۲ صفحہ ۲ کالم ، مفصل تقریر بدر کے علاوہ الحکم ۲ تا ۱۴/ جنوری ۱۹۰۸ء کے نمبروں میں بھی -4 چھپ گئی تھی پدر / جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۲ کالم نمبر ۳ کالم نمبرا بد // جنوری ۱۱۹۰۸ صفحه ۸۰۴ بحث کا خلاصہ بدر ۹/ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ کالم نمبر پر چھپ گیا جس کے مطابق ۱۹۰۸ء کے لئے مجوزہ آمد کی میزان ۶۳۸۷۵ اور مجوزہ خرچ کی میزان ۲۲۵۵۹ تھی پدر ۹/ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۳ ولادت پر فروری ۱۸۹۳ء بمقام سیالکوٹ۔آپ داخل احمدیت کیسے ہوئے؟ اس پر خود ہی روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں (ستمبر ۱۹۰۳ء میں) " جب میں نے پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی تو میرے دل میں اس وقت کسی قسم کے عقائد کی تنقید میں تھی۔جو اثر بھی میرے دل پر اس وقت ہوا وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کچھ کہتا ہے وہ سچ ہے۔اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپ کے متعلق اللہ تعالی کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لئے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہو گئی۔میں گو اس وقت بچہ ہی تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی۔بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے ہیں لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کرہی مانا تھا اور وہی اثرات اب تک میرے لئے حضور کے دعاوی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہیں اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ میں ۳/ ستمبر ۱۹۰۴ء کے دن سے ہی احمد ہی ہوں۔" قادیان کی پہلی مرتبہ زیارت نمبر ۱۹۰۵ء میں نصیب ہوئی اور آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر ۱۶ ستمبر ۱۹۰۷ء کو بیعت کی جیسا کہ آپ خود لکھتے ہیں۔جب ستمبر ۱۹۰۷ء میں میں والد صاحب کے ساتھ قاریان آیا تو حضرت خلیفتہ المسیح اول کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے خودی ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔اور یہ ۶/ ستمبرے ۱۹۰ ء کا دن تھا۔" (سورہ سیرت المہدی حصہ چهارم غیر مطبوعہ صلح ۴۹۳/۳۹۱/۲۴۱/۴۳۹/ " تحدیث نعمت " صفحہ ۸۷ متولفہ حضرت چوہدری صاحب طبع اول ستمبر اے 19 زمانہ تعلیم کے بعد (جس میں سنگہ کالج کیمبرج میں حصول تعلیم کا زمانہ بھی شامل ہے) آپ کی قانونی زندگی کا آغاز ۱۹۱۶ء میں ہوا۔برطانوی ہند میں آپ ۱۹۳۵ء سے ۱۹۴۱ء تک وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن رہے۔۱۹۳۹ ء میں لیگ آف نیشنز کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کی قیادت کا فرض ادا کیا۔۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش پر ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے مسلم لیگ کے کیس کی وکالت کی۔قیام پاکستان پر آپ کو قائد اعظم نے وزیر خارجہ مقرر کیا۔۱۹۵۲ء میں آپ اولاً عالمی عدالت انصاف کے حج اور بعد ازاں اس کے نائب صدر بنے۔۱۸ ستمبر ۱۹۶۲ء کو بھاری اکثریت سے جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔چوہدری صاحب موصوف کی حمایت میں مصر سمیت تمام عرب ممالک نے روٹ دیئے۔آپ کے مد مقابل سیلون کے پروفیسر بالا سکیر اکو با ضابطہ سو روٹوں میں سے صرف ۲۸ ووٹ لے۔ووٹروں میں کمیونسٹ ممالک کیوبا یوگو سلاویہ اسرائیل بھارت اور سیلون وغیرہ شامل تھے۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے صحیح اسلامی تعلیم کو دنیا کے بین الاقوامی علمی اور سیاسی حلقوں تک پہنچانے میں بڑے شاندار کارنامے سر انجام دیے ہیں جن کا مفصل تذکرہ خلافت ثانیہ کے دور