تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 552 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 552

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۱۷ حضرت مسیح موعود کے مبارک دور کا آخری سالانہ جلسہ مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل کی بیعت ماموریت کے اس آخری سال میں جو بزرگ صحابہ کے مقدس زمرہ میں شامل ہوئے ان میں سب سے ممتاز مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل حلال پوری تھے۔آپ نے ۱۷ / فروری ۱۹۰۸ء کو تحریری اور ۱۳ / اپریل ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔قبول احمدیت کی راہ میں آپ کو بڑی بڑی تکالیف برداشت کرنا پڑیں مگر آپ اس پامردی اور استقلال سے ایمان پر قائم رہے کہ کئی پہلے انے والوں سے بھی اپنے اخلاص و فدائیت میں بہت آگے نکل گئے۔و ذلك فضل الله يوتيه من يشاء۔مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل کے علاوہ پنجابی کے مشہور شاعر مولوی محمد دلپذیر صاحب اور ان کے بیٹے ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھی حضور کی بیعت کر کے زمرہ صحابہ میں شامل ہوئے۔سر جیمز ولسن صاحب فنانشل کمشنر پنجاب کا دورہ قادیان سر جیمز ولسن صاحب فنانشل کمشنر پنجاب ایک روزہ دورہ پر ۲۱ / مارچ ۱۹۰۸ء صبح گیارہ بجے قادیان آئے۔ان کے ہمراہ کنگ صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور مستم بند و بست اور پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔معزز مہمانوں کا استقبال معزز مہمانوں کے استقبال کے لئے مدرسہ تعلیم الاسلام کی مجوزہ زمین کے کھلے میدان میں خیمے نصب کئے گئے۔داخلہ کے لئے ایک دروازہ بھی بنایا گیا جس پر سنہری حروف میں (Welcome) یعنی خوش آمدید لکھا ہوا تھا ۲۰ / مارچ کی شام کو خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ فنانشل کمشنر کے استقبال کے لئے آگے جانا چاہیے۔حضور نے فرمایا مجھے ان تکلفات سے نفرت ہے۔باقی TA استقبال وغیرہ کرنا کمیٹیوں کا کام ہے۔آپ چند آدمی اپنے ساتھ لے لیں اور ان کا استقبال کریں۔چنانچہ خواجہ صاب موصوف حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور خواجہ جمال الدین صاحب کے ساتھ ۲۱ / مارچ کی صبح کو گھوڑوں پر سوار ہو کر قادیان سے بغرض استقبال گئے۔کوئی گیارہ بجے صبح ڈپٹی کمشنر ضلع اور پرائیویٹ سیکرٹری کے ساتھ قادیان میں داخل ہوئے۔خیمہ کے ساتھ مدرسہ تعلیم الاسلام کے طلبہ دورویہ قطار میں کھڑے تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ تعلیم