تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 537 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 537

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۰۲ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ماسٹر رگھوناتھ کا لیکچر ختم ہوا تو حضرت مولوی نور الدین صاحب پیج پر تشریف لائے اور نہایت درجہ بلند آواز سے لیکچر پڑھنا شروع کیا۔جب کوئی آیت آپ تلاوت فرماتے تو مجلس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔مضمون کا ابتدائی حصہ حضرت مولوی صاحب نے اور آخری حصہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھا۔یہ مضمون سوا دو گھنٹے تک جاری رہا۔PA حضرت اقدس نے اپنے مضمون میں ابتداء الہام کے متعلق لوگوں کے عقائد کا ذکر کیا اور پھر الہام کے ماننے والوں میں سے ان کا ذکر کیا جو کہتے ہیں کہ اب نہیں ہوتا۔اس کے بعد الہام کے متعلق اپنا مذہب بیان فرمایا۔اس کے ضمن میں اسلام کی عالم گیر تعلیم اور تمام قوموں میں نبیوں کی بعثت پر لطیف بحث فرمائی اور آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن مجید کی ہدایت اور وحی کی شوکت اور جلال کو ا پر شوکت الفاظ میں ادا کیا اور ثابت کیا کہ صرف اور صرف اسلام ہی ایک مذہب ہے جس کے ذریعہ اس زمانہ میں نبوت کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔اس بحث میں امن عامہ کے قیام اور عام رواداری و صلح کاری کی اسلامی تعلیم نہایت اچھوتے انداز میں پیش فرمائی اور اسلامی مسئلہ جہاد کے متعلق پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اسلام کے حقیقی نظریہ کی وضاحت فرمائی۔معرفت اور نور سے بھرا ہوا یہ مضمون دس بجے کے قریب ختم ہو گیا۔مضمون مضمون کا اختتام کے آخر میں الہامات درج تھے جن کے ترجمہ کے متعلق عام لوگوں نے شدید خواہش ظاہر کی جس پر کھڑے ہو کر حضرت مولوی صاحب نے ترجمہ بیان کیا۔نیز اپنی جماعت کی طرف سے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس پر غور کریں گے۔آپ کے بعد صدر جلسہ لاله کاشی رام دید نے حضرت مولوی صاحب سے درخواست کی کہ ہمارے لئے دعا کریں کہ ہم کو بھی ہدایت نصیب ہو۔اس کے بعد جلسہ بر خواست ہوا۔اخبارات کا تبصرہ سلسلہ کے قدیم مخالف پیسہ اخبار نے ۱۳ دسمبر۱۹۰۷ء کے مذکورہ جلسہ " کے متعلق مندرجہ ذیل رائے دی۔" ذہبی مباحثہ کا جلسہ بر سر پرستی آریہ سماج شہر لاہور ۳ / دسمبر کی شام کو سماج مذکور کے مندر واقع و چھو والی میں ٹھیک 4 بجے شروع ہوا اور ۱۰ بجے شب تک قائم رہا۔خلقت کا ہجوم پہلے دن سے کہیں زیادہ اور اس قدر عظیم تھا کہ مندر کا سارا صحن دالان کمرے بالائی بر آمدے اور سب سے اوپر والی چھت کے کنارے لوگوں سے بھر گئے اور کہیں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔آخر کار ٹکٹ بند کر دینے