تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 538 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 538

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۰۳ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت پڑے۔اتنے بڑے اژدہام میں خوش انتظامی تو دشوار تھی تاہم غنیمت ہے کہ کسی قسم کی بد مزگی نہ ہونے پائی۔کارروائی جلسہ کا افتتاح مسٹر روشن لال صاحب پریذیڈنٹ کی ایک مختصر تقریر سے ہوا۔اور پہلے گھنٹہ میں پر ہمو سماج کے ایک قائم مقام نے اپنا لیکچر بلند آواز سے پڑھا جو جملہ مذاہب کی کتب مقدسہ کو قابل قدر ماننے کے خیالات پر مشتمل تھا۔اس کے بعد حکیم مولوی نور الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے بالترتیب ایک ایک گھنٹہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کا ایک مطبوعہ لیکچر جس کی ضخامت ۶۴ صفحہ تھی سنایا۔جس کے ابتدائی حصہ میں اسلام کی عالم گیر تعلیم صلح جوئی دامن پسندی پر قابل تعریف بحث کی گئی تھی اور مذاہب غیر کو توجہ دلائی گئی تھی کہ وہ اسلام جس طرح اپنے پیروؤں کو سابق پیغمبروں کی تعظیم اور کتب ہائے مقدسہ کی تکریم کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ بزرگان اسلام کو ناگوار لفظوں میں یاد کر کے مسلمانوں کا دل نہ دکھائیں۔" ولایت کے مشہور ماہنامہ " ریویو آف ریویوز نے اس لیکچر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا۔" را قم مضمون بہت سے قرآن شریف کی آیات حوالہ میں پیش کرتا ہے جن کی بابت اس کا یہ دعوی ہے کہ یہ آیات تمام مسلمانوں پر فرض عین قرار دیتی ہے کہ وہ تمام انبیاء علیهم السلام پر ایمان لادیں جن کو دنیا کے کثیر حصہ نے قبول کر لیا ہے۔یہ تحمل کا بہت ہی وسیع اصل اور قاعدہ ہم اپنے آزاد خیال عیسائی بھائیوں کے سامنے بطور سفارش پیش کرتے ہیں۔در حقیقت یہ ایک بالکل نئی بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ مذہب جو اب تک تمام مذہبوں سے زیادہ متعصب اور غیر متحمل خیال کیا گیا تھا اپنے تمام ودشمنوں اور مقابل کے لوگوں کے مشن کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہے۔" ۲ دسمبر ۱۹۰۷ ء کا دن آریہ سماج نے اپنے سیکرٹری آریہ سماج کی دشنام آلود تقریر لئے مخصوص کیا تھا۔عیسائیوں ، سنانیوں اور دوسرے غیر مذاہب کے نمائندوں کی تقریر میں کوئی خلاف تہذیب و شائستگی بات نہ تھی۔اور حضور کا مضمون تو سر تا پا صلح و امن کا پیغام تھا۔مگر افسوس اس روز ہی ڈاکٹر چہ نجیو بھاردواج (جس نے بار بار تہذیب و شائستگی کا یقین دلایا تھا) کھڑا ہوا اور اپنے مضمون میں نہایت شوخی اور بے باکی سے پاکوں کے سردار حضور سرور کائنات نخر موجودات کی مقدس ذات بابرکات پر ایسی ایسی تہمتیں لگائیں کہ مسلمانوں کے جگر پاش پاش ہو گئے۔اجلاس کے پریذیڈنٹ نے اگر چہ بعد ازاں معذرت کی کہ یہ لیکچر ہم نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔مگر یہ عذر گناہ بد تر از گناہ تھا۔وہ چاہتے تو لیکچر کے دوران تقریر میں ہی روک سکتے تھے۔در حقیقت یہ پرلے درجہ کی شرارت اور بد گوئی ایک سوچی سمجھی انتقامی سازش کے ساتھ عمل میں لائی گئی تھی جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ دسمبر ۱۸۹۶ ء میں جلسہ اعظم مذاہب کے موقعہ پر