تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 536
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۵۰۱ ملکی شورش میں جماعت کو نصیحت حملہ کرتا ہے۔حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔حضور نے یہ الہام مضمون کے آخر میں درج فرما دے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ ایک عام مجمع میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مضمون پڑھا جانے کو تھا اور ابھی حضرت اقدس نے مضمون لکھا بھی نہ تھا کہ مضمون کے پڑھنے کا سوال پیدا ہو گیا۔حضور کی خدمت میں مختلف نام پیش کئے گئے۔حضرت اقدس نے فیصلہ کرنے کے لئے مسجد مبارک میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں حضرت مولوی نور الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی سے مضمون پڑھوا کر سنا اور بالاخر حضور نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کا انتخاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت اگر مولوی عبد الکریم صاحب زندہ بھی ہوتے تو بھی میں مولوی صاحب ہی کو ترجیح دیتا۔اور یہ بھی فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب بھی مولوی صاحب ہی کے شاگر د تھے۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب جمہیر الصوت تھے اس لئے وہ حضرت حکیم الامت کے مددگار قرار پائے۔۲ دسمبر ۱۹۰۷ء کو ابجے کے قریب حضرت اقدس نے حضرت حکیم الامت کو روانہ فرمایا اور خود بھی مشایعت کے لئے باہر تشریف لے گئے حضرت مولوی صاحب کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میر ناصر نواب صاحب ، شیخ یعقوب علی صاحب تراب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ابو سعید صاحب عرب اور قادیان کے اور کئی اصحاب بھی قادیان سے لاہور پہنچ گئے۔یہاں انبالہ لدھیانہ کپور تھلہ امرتسر ، اجماله وزیر آباد گوجرانوالہ سیالکوٹ اور دوسرے اضلاع سے بھی کئی سو احمد کی پہنچے ہوئے تھے۔حضرت اقدس کا مضمون پڑھا جانا ۲ دسمبر۷ ۱۹۰ ء کو سناتن دھرم اور عیسائیوں کی طرف سے مضامین پڑھے گئے اور ۳/ دسمبر کا دن پر ہموؤں اور مسلمانوں کے لئے مخصوص تھا۔حضرت اقدس کے لئے آریہ سماج نے ۳ / د کمبر۷ ۱۹۰ ء کی شام کو بجے سے ۱۰ بجے تک کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔جہاں پہلے اجلاسوں میں حاضری معمولی تھی وہاں اس رو زلوگ ۵ بجے ہی آنا شروع ہو گئے اور 4 بجے تک آریہ مندرو چھودالی (جہاں جلسہ ہو رہا تھا ) کا صحن کمرے اور گیلری سب پر ہو گئے۔۶ بجے جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی اور سب سے پہلے ماسٹر رگھوناتھ سہائے نے برہمو سماج کے نمائندہ کی حیثیت سے ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔یہ لیکچر ابھی ختم نہ ہوا تھا کہ داخلہ کے ٹکٹ بند کر دینا پڑے۔سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں نے قبل ازیں قلمی اشتہار چسپاں کر دئے تھے کہ لوگ اس جلسہ میں نہ جائیں۔مگر اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ لوگ اس قدر کثرت سے پہنچے کہ