تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 513 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 513

۴۷۸ حقیقتہ الوحی " کی تصنیف و اشاعت نور الدین صاحب نے ان کو حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور ان کے مسلمان ہونے کے حالات سے بہت محفوظ ہوئے اور فرمایا کہ ان کا لیکچر ہونا چاہئے چنانچہ انہوں نے ۱۲۹ جون ۱۹۰۶ء کو مسجد اقصی میں لیکچر دیا۔جو آپ کا پہلا لیکچر تھا ( روایات صحابہ رجسٹرا صفحہ ۱۹۷ ۲۰۰ د بدر ۱۲ جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۲) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی تصنیف "چشمہ معرفت " میں سکھ مذہب کے لئے جو مواد مطلوب تھاوہ اکثرو بیشتر شیخ صاحب ہی نے مہیا کیا جس پر حضور نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔شیخ صاحب کی پوری عمر سکھوں کو تقریر و تحریر کے ذریعہ سے پیغام اسلام پہنچاتے ہوئے گزری۔آپ نے ہندی اور گورمکھی دونو زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم اور رسول مقبول ﷺ کی سیرت مقدسہ شائع کی جو بہت مقبول ہوئی۔علاوہ ازیں دو در جن کے قریب کتب بھی لکھیں۔خلافت اوٹی کے محمد میں آپ نے سکھوں میں تبلیغ اور سکھ مسلم اتحاد کی غرض سے ایک اخبار تور " شروع کیا جو ۱۹۳۸ء کے آغاز تک آپ کی ادارت میں باقاعدہ جاری رہا۔قادیان سے آپ ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں پناہ گزین ہوئے اور ابھی اخبار کے دوبارہ اجراء پر تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ ۶/ مئی ۱۹۵۲ء کو عمر ۲۴ سال آپ کا انتقال ہو گیا۔ام ولادت ۱۸۶۵ء وفات ۲۵ / فروری ۱۹۱۷ء - سلسلہ کے ایک پر جوش مقرر مخلص خادم اور بلند پایہ شاعر اور دبلے پہلے اکرے جسم اور متوسط قد کے نہایت سنجیدہ و متین بزرگ تھے۔آپ کا کلام " گلدستہ حقانی " کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔عمر بھر محکمہ تعلیم کی ملازمت میں رہے۔آپ کی نیکی ، تقوی شعاری کا یہ اثر تھا کہ آپ کے بہت سے شاگر د سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔جماعت احمد یہ راولپنڈی کے پریذیڈنٹ اور امام الصلوۃ بھی تھے۔(رساله رفیق حیات اگست ۱۹۲۰ء صفحه ۴۱) ۴۲ ولادت غالبا ۷ ۱۸۸ء قریباً بائیس سال تک تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور ٹیچر کام کیا۔اس دوران میں کئی سال تک ٹیوٹر بھی رہے۔یکم نومبر ۱۹۶۲ء کو انتقال فرمایا اور ربوہ کے خاص قبرستان میں دفن ہوئے۔بڑے مخلص متدین اور سادہ طبیعت بزرگ تھے۔تبلیغ کا بڑا جوش تھا۔آپ کے ایک فرزند قریشی سعید احمد صاحب اظہر سلسلہ کے مربی ہیں۔