تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 514
تاریخ احمدیت جلد ۲ ٤٤٩ طاعون کا اثر معاندین پر حملہ اور ان کی ہلاکت ་ ماموریت کا چھبیسواں سال طاعون کا اشد معاندین سلسلہ پر سخت حملہ اور ان کی پے در پے ہلاکت (819*2) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق ملک میں طاعون کا زور ہر طرف بڑھتا جارہا تھا اور مرنے والوں کی سالانہ تعداد پچھلے چند سالوں میں ہزاروں سے نکل کر لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔اس عام تباہی کے علاوہ طاعونی حملے کا حیران کن پہلو یہ تھا کہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے افراد عموماً اور "الدار " خصوصاً بالکل محفوظ و مصون تھے مگر دوسری طرف سلسلہ حقہ کے اشد مخالفین نهایت تیزی کے ساتھ اس کی زد میں آرہے تھے ان میں سے ایک کثیر حصہ ان معاندین کا تھا جنہوں نے حضور علیہ السلام کے خلاف مباہلہ کیا یا بد دعا کی اور پھر خود ہی طاعون سے ہلاک ہو گئے۔بعض معاندین جو ہلاک ہوئے۔مولوی رسل بابا امر تری جس نے حضور" کے خلاف - گندی کتاب لکھی اور بد زبانی سے کام لیا تھا۔طاعون کا شکار ہوا۔۲۔موضع بھڑی چٹھ تحصیل حافظ آباد میں ایک شخص نور احمد رہتا تھا جس نے معلی کی کہ طاعون ہمیں نہیں مرزا صاحب کو ہلاک کرنے آئی ہے۔اس پر ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ وہ مرگیا۔۳۔مولوی زین العابدین نے ایک احمدی سے مباہلہ کیا۔تھوڑے دنوں کے بعد وہ خود اس کی بیوی داماد وغیرہ گھر کے ستر افراد طاعون کا شکار ہو گئے۔۴۔حافظ سلطان سیالکوئی اپنے خاندان کے نو دس افراد سمیت طاعون سے رخصت ہوا۔۵۔حکیم محمد شفیع سیالکوئی طاعون کا شکار ہوا اور اس کی بیوی اس کی والدہ اور اس کا بھائی سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرگئے۔۶۔مرزا سردار بیگ سیالکوٹی جو اپنی گندہ دہنی اور شوخی میں بڑھ گیا تھا طاعون میں مبتلا ہوا۔ے۔چراغ الدین جمونی اپنی گستاخیوں کی پاداش میں ہلاک ہوا۔۸۔مولوی محمد ابو الحسن نے حضرت اقدس کے خلاف کتاب ” بجلی آسمان بر سر دجال