تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 512 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 512

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹ بار کے الرجنوری کے ۱۹۰ ء ۳۰ الحکم ۱۲۴ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۲۵۶ ۳۲ اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۲۵۶ ۴۷۷ الحکم ۲۴ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۷ ( مفصل خطبہ کے لئے ملاحظہ ہو بدر ۱۳ / دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۸) ۳۴- پدر ۱۳ مئی ۱۹۰۹ء صفحہ ۲ کالم حقیقتہ الوحی کی تصنیف و اشاعت ۳۵۔شیخ صاحب موصوف کی عمر کے آخری ایام چکڑالویوں سے لڑنے جھگڑنے میں گذرے پوری تفصیل رسالہ اشاعت القرآن ۱۵- اپریل د مارچ ۱۹۲۴ء صفحہ ۲۸-۲۹ میں مذکور ہے) ۳۶- اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۲۶۹ ۳۷۔اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۳۰۱ ۳۸- ولادت ۳/ اکتوبر ۱۸۹۰ء حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے فرزند اور سیدنا حضرت مسیح موعود کے پوتے احضرت اقدس کو آپ کی بیعت کے بارے میں سات برس قبل ۲۰/ اکتوبر ۱۸۹۹ء کو یہ خواب دکھایا گیا کہ " ایک لڑکا ہے جس کا نام عزیز ہے اور اس کے باپ کے نام کے سرپر سلطان کا لفظ ہے۔وہ لڑکا کھڑ کر میرے پاس لایا گیا اور میرے سامنے بٹھایا گیا۔میں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سالڑ کا گورے رنگ کا ہے (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۴ صفحه ۲ از اشتهار ۲۲/ اکتوبر ۱۸۹۹ء) سواس خواب کے مطابق مارچ ۱۹۰۶ء میں حضرت صاحبزادہ موصوف نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کرلی (الحکم ۱۰ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) ان کی بیعت کا پیغام لے کر حضور کی خدمت میں گئے تھے اور حضور نے اس پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا الفضل سے مارچ ۱۹۳۰ء صفحہ ) کالم (۲) اور غالبا دوسرے ہی روز اپنے گھر میں ان کی دعوت کی جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت میر محمد الحق صاحب بھی شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کا بیان ہے دو تخت بچھے ہوئے تھے ان پر ایک چاندنی بچھی ہوئی تھی ہم نے وہاں کھانا کھایا۔حضرت ام المومنین کھانا نکال کر دے رہی تھیں اور حضرت صاحب پاس ہی مل رہے تھے اور جہاں تک مجھے یاد ہے نہایت خوش نظر آتے تھے۔یقین سے تو نہیں کہ سکتا مگر کچھ یاد آتا ہے کہ حضرت اقدس نے میری طرف اشارہ کر کے حضرت خلیفہ ثانی سے کہا " محمود یہ تمہارا بھتیجا ہے " صاجزادہ موصوف کو حضرت صاحب زادہ مرزا بشیر الدین صاحب کی برات میں بھی شمولیت کا فخر حاصل ہو ا روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلدے صفحہ ۲۷۹۷۷/ فروری ۱۹۳۰ء کو آپ کا نکاح محترمہ نصیرہ بیگم صاحبہ (بنت حضرت میر محمد الحق صاحب سے ہوا۔خطبہ نکاح خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ( الفضل کے / مارچ ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۱۸) آپ ایک لمبا عرصہ ایک ممتاز فرض شناس اور دیانت دار افسر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت میں رہے اور بالاخر اے۔ڈی۔ایم کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔۱۲ / جولائی ۱۹۴۹ء سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت صدر المجمن احمد یہ پاکستان کے ناظر اعلیٰ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں (اب کتاب کی طبع ثانی کے دوران مئی ۱۹۷۱ء (اجرت ۱۳۵۰ ش) سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ اس خدمت سے سبکدوش ہوئے اور آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف کے لئے ۱۲ ہجرت کو ایک الوادعی تقریب منعقد کی گئی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالی نے بھی شرکت فرمائی۔(وفات ۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء) ولادت ۱۸۷۹ء وفات ۲۲ / جون ۱۹۵۷ء۔طالب علمی کے زمانہ میں جب کہ آپ میٹرک کا امتحان دے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی پر ایمان لانے کا بھری مجلس میں اعلان کیا جس پر آپ کو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔مگر آپ آخر دم تک نہایت پامردی اور ثابت قدمی سے حق و صداقت پر قائم رہے۔بڑے منکسر المزاج، خلیق اور ملنسار بزرگ تھے۔میاں عبدالرحیم احمد صاحب ایم۔اے۔جن کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی سے شرف دامادی حاصل ہوا آپ ہی کے فرزند ہیں۔مقبرہ خاص ربوہ کے خاص قطعہ صحابہ میں آپ کا مزار ہے۔سے مسیح ۴۰ سکھوں سے مسلمان ہوئے۔وسط ۱۹۰۶ء میں قادیان اگر حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔حضرت مولوی