تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 507
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۷۲ قیقہ الوحی " کی تصنیف و اشاعت سے تین رسائل " ریویو آف ریلیجز" (اردو انگریزی طبیب حاذق " اور " تشحذ الاذہان " نکل رہے تھے اب ان کی تعداد چار ہو گئی۔اس رسالہ کے ایڈیٹر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب تھے اور یہ ہیڈ ماسٹر صاحب تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اہتمام سے شائع ہو تا تھا۔رسالہ کی اصل غرض و غایت تفسیر قرآن تھی۔حضرت مولوی نور الدین صاحب کے درس کے نوٹ اور آپ کی عربی تفسیر کا خلاصہ اور حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کی تفسیر اس میں درج ہوتی تھی۔علاوہ ازیں حضرت اقدس کے الہامات اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق خبریں بھی ہوتی تھیں۔مئی ۱۹۰۷ ء میں یہ رساله ریویو آف ریلیجنز " کے ساتھ بطور ضمیمہ چھپنے لگا۔افسوس یہ قیمتی تفسیر صرف سورۃ انعام تک 11 شائع ہو سکی۔احیائے موتی کا ایک نشان اس سال حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کی شفایابی کا اعجازی نشان ظاہر ہوا۔اس نشان کی تفصیل حضرت اقدس ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔"میرے ایک صادق دوست اور نہایت مخلص جن کا نام ہے سیٹھ عبد الرحمن تاجر در اس۔ان کی طرف سے ایک تار آیا کہ وہ کار بنکل یعنی سرطان کی بیماری سے جو ایک مسلک پھوڑا ہوتا ہے بیمار ہیں۔چونکہ سیٹھ صاحب موصوف اول درجہ کے مخلصین میں سے ہیں اس لئے ان کی بیماری کی وجہ سے بڑا فکر اور بڑا تردد ہوا۔قریبا ؟ بجے دن کا وقت تھا کہ میں غم اور فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دفعہ غنودگی ہو کر میرا سر نیچے کی طرف جھک گیا اور معاخدائے عزوجل کی طرف سے وحی ہوئی کہ "آثار زندگی۔" بعد اس کے ایک اور تار در اس سے آیا کہ حالت اچھی ہے کوئی گھبراہٹ نہیں۔لیکن پھر ایک اور مخط آیا کہ جو ان کے بھائی صالح محمد مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا جس کا یہ مضمون تھا کہ سیٹھ صاحب کو پہلے اس سے ذیا بیٹس کی بھی شکایت تھی۔چونکہ ذیا بیطیس کا کار بنکل اچھا ہونا قریباً محال ہے اس لئے دوبارہ غم اور فکر نے استیلاء کیا اور غم انتماء تک پہنچ گیا۔اور یہ غم اس لئے ہوا کہ میں نے سیٹھ عبدالرحمٰن کو بہت ہی مخلص پایا تھا اور انہوں نے عملی طور پر اپنے اخلاص کا اول درجہ پر ثبوت دیا تھا اور محض دلی خلوص سے ہمارے لنگر خانہ کے لئے کئی ہزار روپیہ مدد کرتے رہے تھے جس میں بجز خوشنود کی خدا کے اور کوئی مطلب نہ تھا اور وہ ہمیشہ صدق اور اخلاص کے تقاضا سے ماہواری ایک رقم کثیر ہمارے لنگر خانہ کے لئے بھیجا کرتے تھے اور اس قدر محبت سے بھرا ہوا اعتقاد رکھتے تھے کہ گویا محبت اور اخلاص میں محو تھے اور ان کا حق تھا کہ ان کے لئے بہت دعا کی جائے۔آخر دل نے ان کے