تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 508 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 508

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۷۳ حقیقت الوحی " کی تصنیف و اشاعت لئے نہایت درجہ جوش مارا جو خارق عادت تھا اور کیا رات اور کیا دن میں نہایت توجہ سے دعا میں لگا رہا تب خدا تعالیٰ نے بھی خارق عادت نتیجہ دکھلایا اور ایسی مملک مرض سے سیٹھ عبدالرحمن صاحب کو نجات بخشی گویا ان کو نئے سرے سے زندہ کیا۔چنانچہ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا سے بڑا معجزہ دکھلایا اور نہ زندگی کی کچھ بھی امید نہ تھی۔اپریشن کے بعد زخم کا مندمل ہونا شروع ہو گیا اور اس کے قریب ایک نیا پھوڑا نکل آیا جس نے پھر خوف اور تہلکہ میں ڈال دیا تھا۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کار بنکل نہیں۔آخر چند ماہ کے بعد بکلی شفا ہو گئی۔میں یقینا جانتا ہوں کہ یہی مردہ کا زندہ ہوتا ہے۔کار بنکل اور پھر اس کے ساتھ ذیا بیٹیس اور عمر پیرانہ سالی اس خوف ناک صورت کو ڈاکٹر لوگ خوب جانتے ہیں کہ کس قدر اس کا اچھا ہو نا غیر ممکن ہے۔ہمارا خد ابرار حیم وکریم ہے۔اور اس کی صفات میں سے ایک احیاء کی سنت بھی ہے۔سید محمد یوسف بغدادی سیاح اور شیخ محمد چٹو صاحب کی قادیان میں آمد حکیم محمد حسین صاحب قریشی کے دادا شیخ محمد چٹو صاحب ابتداء سرگرم اہل حدیث تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حسن ظن ہوا۔۔مگر عمر کے آخر میں چکڑالوی ہو گئے تھے۔قریشی صاحب اخیر اکتوبر ۱۹۰۶ ء میں اپنے دادا اور دو اور چکڑالویوں کو جن میں سے ایک سید محمد یوسف بغدادی سیاح کہلاتے تھے قادیان میں لائے شیخ محمد چٹو صاحب نے حضرت اقدس سے آپ کے دعوئی امامت کا ثبوت قرآن شریف سے مانگا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جن دلائل سے آپ نے قرآن شریف کو سچا مانا ہے انہی دلائل کے ذریعہ سے پھر میری سچائی کو پرکھ لیں۔شیخ محمد چٹو صاحب تو اس کا کوئی جواب نہ دے سکے البتہ سیاح صاحب نے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد کہا کہ میں مباہلہ کرتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ آپ پہلے میری ایک کتاب پڑھ لیں پھر بڑے شوق سے مباہلہ کر لیں۔سیاح صاحب نے کہا کہ ابھی میں دو گھنٹہ میں کتاب پڑھ لیتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ آپ بے شک وگھنٹہ میں مطالعہ کرلیں میں بعد ازاں چند ایک سوال کرلوں گا جن سے اندازہ ہو جائے گا کہ آپ مضمون کتاب کو سمجھ گئے ہیں۔اس پر سیاح صاحب نے معذرت کر دی اور قادیان میں مزید قیام کا ارادہ ملتوی کر کے واپس چلے آئے اور لاہور میں آکر رسالہ اشاعت القرآن " میں اصل واقعات کو چھپا کر لکھ دیا کہ مرزا صاحب مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کے ساتھ مباحثہ کرلیں۔۔