تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 33
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۳ مولوی محمد حسین صاحب بثانوی کی شورش اور ناکامی مدرس مدرس فتحپوری دہلی) "جو شخص امام مهدی علیہ السلام کا انکار کرتا ہے وہ گمراہ ہے اور احادیث صحاح کا منکر ہے۔مثلاً ترمذی وغیرہ میں یہ حدیثیں موجود ہیں۔" (عبداللہ خان بچھر ایونی بقلم خود) (مهر) 19 الجواب الصحیح۔واقعی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہے اور ایسے عقیدہ کا شخص کذاب لوگوں میں سے ہے۔فقط " ۲۰ ۲۱ خورجه ضلع بلند شهر) (مولوی محمد عبد الرزاق خلف حاجی خدا بخش المتخلص ناچیز ساکن قصبه الْجَوَابُ أَقْرَلُ وَ بِالله التوفيق۔معلوم ہو کہ انکار ظہور امام مہدی سے جیسے احادیث میں ہے اور سلفا و خلفا اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے صرف ضلالت اور گمراہی ہے اور یہ انکار کسی رجال کا کام ہے۔فقط والله يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَا مِ المُسْتَقِيمِ " دستخط الراقم عبد العزیز عفی عنہ لو دیا نوی) از بنده رشید احمد عفی عنہ - بعد سلام مسنون مطالعه فرمانید - مسیح موعود کا آغاز اور مہدی موعود کا آنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے چنانچہ ابو داؤد میں ان الفاظ میں وارد ہوئی لَو لَم يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلا يَوْمَ لَطَوَلَ الله ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِنُّى اِسْمُهُ اِسْمِرَ وَاِسْمُ اَبِيْهِ اِسْمُ أَبِي يَعْلَا الْاَرْضَ قِسْطَا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظلما وجودًا اِنتَهی پس جو شخص اس سے منکر ہے وہ مخالف عقیدہ سنت جماعت اور خاطی ہے اور اس کو ہر گز متبع سنت نہ جاننا چاہئے فقط واللہ اعلم - رشید احمد۔مورخہ ۸۱ شعبان ۲ ہجری A ڈاکٹر صاحب دہلی۔لاہور اور امر تسر سے ہو کر ۳۔جنوری ۱۸۹۹ء کو یہ فتویٰ لکھوا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچے اور حضور اسی روز مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے انگریزی رسالہ اور اپنے استفتاء اور علماء کے فتوئی کی بابت پوری تفصیلات بذریعہ اشتہار منظر عام پر لے آئے اور لکھا کہ "آج میں اس خدائے قادر و قدوس کے ہزار ہزار شکر کے بعد جو مظلوموں کی فریاد کو پہنچا اور سچائی کی حمایت کرتا ہے اور اپنے پاک کلمات کو پورے کرتا ہے عام مسلمان اور دوسرے لوگوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ جو میں نے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنہ کے مقابل پر اس کی بہت سی گالیوں اور بہتانوں اور دجال کذاب کافر کہنے کے بعد اور اس کی اس پلید گندہ زبانی کے بعد جو اس نے خود اور اپنے دوست محمد بخش جعفر ز علی وغیرہ کے ذریعہ سے میری نسبت کی تھی ایک اشتہار بطور