تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 442
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۳۹ قرب وصال سے متعلق الہامات جمیل کے لئے کسی قدر اور زمین خریدی جائے گی جس کی قیمت اند از اہزار روپیہ ہوگی اور اس کے خوش نما کرنے کے لئے کچھ درخت لگائے جائیں گے اور ایک کنواں لگایا جائے گا۔اور اس قبرستان سے شمال کی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گزر گاہ ہے اس لئے وہاں ایک پل تیار کیا جائے گا اور ان متفرق مصارف کے لئے دو ہزار روپیہ درکار ہو گا۔سو کل یہ تین ہزار روپیہ ہوا جو اس تمام کام کی تجمیل کے لئے خرچ ہو گا۔سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے اور یہ چندہ محض ان لوگوں سے طلب کیا گیا ہے نہ دوسروں سے۔بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نور الدین صاحب کے پاس آنا چاہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔اس صورت میں ایک انجمن چاہئے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتا فوقتا جمع ہوتا رہے گا اعلائے کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں۔دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا تو یہ وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا۔اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے۔لیکن اس سے کم نہیں ہو گا۔اور یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپرد رہے گی اور وہ باہمی مشورہ سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے حسب ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گے۔اور خدا تعالٰی کا وعدہ ہے کہ وہ اس سلسلہ کو ترقی دے گا۔اس لئے امید کی جاتی ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے ایسے مال بھی بہت اکٹھے ہو جائیں گے اور ہر ایک امرجو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام اموران اموال سے انجام پذیر ہوں گے۔اور جب ایک گروہ جو متکفل اس کام کا ہے فوت ہو جائے گا تو وہ لوگ جو ان کے جانشین ہوں گے ان کا بھی یہی فرض ہو گا کہ ان تمام خدمات کو حسب ہدایت سلسلہ احمدیہ بجالا دیں۔ان اموال میں سے ان قیموں اور مسکینوں اور نو مسلموں کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں۔اور جائز ہو گا کہ ان اموال کو بطور تجارت کے ترقی دی جائے یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس باتیں ہیں بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال