تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 441 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 441

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۸ قرب : مال سے متعلق الہامات دکھلا دی گئی کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہوگی۔ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے۔پھر ایک جگہ مجھے ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔" فرمایا کہ حضور نے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے نام ۶ / اگست ۱۸۹۸ء کو ایک مکتوب میں تحریر ”میرے دل میں خیال ہے کہ اپنے اور اپنی جماعت کے لئے خاص طور پر ایک قبرستان بنایا جائے جس طرح مدینہ میں بنایا گیا تھا۔بقول شیخ سعدی کہ ”بداں را به نیکاں محمد کریم " یہ بھی ایک وسیلہ مغفرت ہوتا ہے جس کو شریعت میں معتبر سمجھا گیا ہے۔اس قبرستان کی فکر میں ہوں کہ کہاں بنایا جائے۔امید ہے کہ خدا تعالی کوئی جگہ میسر کر دے گا اور اس کے ارد گرد ایک دیوار چاہیئے۔" اس لحاظ سے آپ ۱۸۹۸ء سے ایک خاص قبرستان کی بنیاد کے لئے کوشاں تھے مگر چونکہ موقعہ کی عمدہ زمینیں بہت قیمت سے ملتی تھیں اس لئے یہ غرض مدت دراز تک معرض التواء میں رہی۔بالاخر اللہ تعالی کی مصلحتوں کے ماتحت اس کا قیام دسمبر ۱۹۰۵ء کے آخر میں عمل میں آیا جس کا فوری موجب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا انتقال اور خود حضور کے قرب وصال کے الہامات تھے۔حضور نے اپنی ملکیتی زمین بہشتی مقبرہ اور اس میں دفن ہونے کی شرائط کا اعلان الی حکم کی تعمیل میں مقبرہ کے لئے وقف فرما دی اور رسالہ الوصیت میں اس میں دفن ہونے والوں کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا اعلان فرمایا۔"چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا انزل فيها كُلّ رَحْمَةٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتار دی گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے شرائط لگا ئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہو سکیں جو اپنے صدقی اور کامل راست بازی کی وجہ سے ان شرائط کے پابند ہوں۔سورہ تین شرطیں ہیں اور سب کو بجالاتا ہو گا۔" اس قبرستان کی زمین موجودہ بطور چندہ کے میں نے اپنی طرف سے دی ہے لیکن اس احاطہ کی