تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 443
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۰ام بهم قرب وصال سے متعلق جمع کیوں کر ہوں گے اور ایسی جماعت کیوں کر پیدا ہو گی جو ایمان داری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانے کے بعد وہ لوگ جن کے سپرد ایسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھا دیں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں ہاں جائز ہو گا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ محمد ان کو بطور مدد خرچ ان میں سے دیا جائے۔تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔سچا اور صاف مسلمان ہو۔ہر ایک صالح جو اس کی کوئی بھی جائیداد نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا۔اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔" الوصیت میں حضور نے یہ بھی لکھا کہ "میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو ان شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہو گا۔" نیز تحریر فرمایا " یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گزرے گا اور اس سے ان کی پردہ دری ہوگی اور بعد موت وہ مرد ہوں یا عورت اس قبرستان میں ہر گز دفن نہ ہوں گے۔" "الوصیت" میں حضور نے اس مقبرہ کی غرض یہ لکھی کہ " خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے مقبرہ کی غرض کہ ایسے کامل الایمان ایک جگہ دفن ہوں تا آئندہ کی نسلیں ایک ہی جگہ ان کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کریں اور تا ان کے کارنامے یعنی جو خدا کے لئے انہوں نے دینی کام کر ہمیشہ کے لئے قوم پر ظاہر ہوں۔" نظام الوصیت کے متعلق ایک عظیم الشان پیش گوئی حضور نے الوصیت میں ہی پیش گوئی فرمائی " یہ مت خیال کرد که به صرف دو ر از قیاس باتیں ہیں بلکہ یہ اس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے۔مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیوں کر ہوں گے اور ایسی جماعت کیوں کر پیدا ہو گی جو ایمان داری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر د ایسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں۔"