تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 429 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 429

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ فرد یلی لدھیانہ اور امرتسر ہوں اور گاڑی کا وقت ہونے والا ہے میں اس وقت نہیں جاسکتا۔اس نے منت عرض کیا کہ میں اپنی بیوی کو یہیں سٹیشن پر لے آتا ہوں آپ اسے نہیں دیکھ لیں۔آپ نے فرمایا اگر یہاں لے آؤ اور گاڑی میں کچھ دشت ہوا تو میں دیکھ لوں گا۔چنانچہ وہ اپنی بیوی کو سٹیشن پر لایا اور آپ نے اسے دیکھ کر نسخہ لکھ دیا۔یہ ہندور میں چپکے سے گیا اور دلی کا ٹکٹ لا کر حضرت خلیفہ اول کے حوالہ کیا اور ساتھ ہی معقول نقدی بھی پیش کی۔" IF بعض علماء کا حضور کی مجلس میں آنا دیلی میں قیام کے دوران میں بعض علماء بھی حضور کی آسمان پر ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔۲۴ / اکتوبر ۱۹۰۵ ء بعد نماز ظهر ایک صاحب عبد الحق صاحب چند طالب علموں کے ساتھ آئے۔چند اور بھی دہلی والے آموجود ہوئے۔عبد الحق صاحب نے اپنی تشفی کے لئے سوال کیا کہ کیا آپ خود مسیح اور مہدی ہونے کے مدعی ہیں ؟ حضور نے اس کا بڑا لطیف جواب دیا اور ان کو توجہ دلائی کہ اس وقت عیسائیت اسلام کو کھا رہی ہے۔آیا عیسوی مذہب کی بیخ دین اس سے اکھڑ سکتی ہے کہ ہم عیسائیوں کی طرح حضرت مسیح کو تسلیم کریں یا اس طرح کہ ہم عیسائیوں کے سامنے ثابت کر دیں کہ جس شخص کو تم اپنا معبود مانتے ہو وہ دوسرے انبیاء کی طرح مدفون ہے اور اس کی قبر بھی موجود ہے۔اس بات کا عبد الحق صاحب پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے کھڑے ہو کر حضور کے ہاتھ چوم لئے اور کہا کہ میں سمجھ گیا ہوں۔آپ اپنا کام کئے جائیں انشاء اللہ تعالی ضرور کامیاب ہوں گے۔اگلے روز (۲۵/ اکتوبر کو ایک اور مولوی صاحب آئے اور انہوں نے سوال کیا کہ خدا نے ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔آپ نے اپنا فرقہ کا نام احمدی کیوں رکھا ہے ؟ حضور نے اس سوال کے جواب میں مفصل تقریر فرمائی اور بتایا کہ ”جو لوگ اسلام کے نام سے انکار کریں یا اس نام کو عار سمجھیں ان کو تو میں لعنتی کہتا ہوں میں کوئی بدعت نہیں لایا جیسا کہ حنبلی شافعی وغیرہ نام تھے ایسا ہی احمدی بھی نام ہے بلکہ احمدی کے نام میں اسلام اور اسلام کے بانی احمد ان کے ساتھ اتصال ہے اور یہ اتصال دوسرے ناموں میں نہیں۔احمد آنحضرت ا کا نام ہے۔اسلام احمدی ہے اور احمد ی اسلام ہے۔بعض اوقات الفاظ بہت ہوتے ہیں مگر مطلب ایک ہی ہوتا ہے۔احمدی نام ایک امتیازی نشان ہے۔آج کل اس قدر طوفان زمانہ میں ہے کہ اول آخر کبھی نہیں ہوا اس واسطے کوئی نام ضروری تھا۔خدا کے نزدیک جو مسلمان ہیں وہ احمد کی ہیں۔" ۲۱ اکتوبر کو حضرت اقدس نے ایک لمبی تقریر فرمائی۔چند مولویوں نے تقریر کے بعد حضرت اقدس سے ایک تحریر لکھوائی کہ حضور کیوں مسیح کی وفات کے قائل ہیں ؟ ۱۵