تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 430 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 430

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۴۲۷ مفرد علی لدھیانہ اور امرتسر حضور کے سفر دہلی کی خبر سن کر لاہور ، مظفر نگر ، میرٹھ گڑھی پختہ (ضلع دہلی میں خدام کی آمد مظفر گڑھ یوپی) پٹیالہ انبالہ لدھیانہ اٹاوہ امروہہ شاہ آباد ضلع ہر دوئی بلب گڑھ ضلع دہلی لارنس پور رعیہ ضلع سیالکوٹ اور بعض دیگر مقامات کے بہت سے خدام پہنچ گئے۔لدھیانہ سے مولوی عبد القادر صاحب بطور نمائندہ آئے اور درخواست کی کہ حضور واپسی پر لدھیانہ بھی قیام فرما دیں جسے حضور نے منظور فرمالیا۔جماعت پٹیالہ کی طرف سے منشی عبد الغنی صاحب آفیسر فراش خانہ نے بھی پٹیالہ میں قیام کی درخواست کی۔حیرت صاحب کا بیہودہ چیلنج یکم نومبر ۱۹۰۵ء کو مرزا حیرت صاحب دہلوی نے کرزن گزٹ " میں حضرت اقدس کے خلاف سخت زہر اگلا اور مناظرہ کا چیلنج بھی دیا۔حضرت اقدس نے ان کی گزشتہ آزاد اسلامی اور نمائشی طبیعت کو دیکھ کر اعراض ہی مناسب سمجھا۔البتہ جماعت دہلی کی طرف سے اشتہار دیا گیا کہ مرزا حیرت صاحب محض ایک اخبار نویس ہیں لہذا ان کے ساتھ حیات و وفات مسیح" کے موضوع پر ایڈیٹر اخبار الحکام وبدر مناظرہ کرنے کو تیار ہیں۔مرزا حیرت صاحب نے جوابی اشتہار دیا کہ میں ایسی بحثوں کو بیکار سمجھتا ہوں۔حضرت مسیح ایک بار نہیں سو بار فوت ہو جائیں۔ہاں ایک شخص کو خواہ مخواہ عیسی ابن مریم تسلیم کر لینا بحث طلب ہے۔حق یہ ہے کہ یہ بحث طلب " معالمہ بھی جسے موضوع بحث بنانے کے لئے انہوں نے یہ اشتہار دیا تھا ان کی نگاہ میں اصولی نہیں تھا اور نہ چنداں اہمیت تھی۔کیوں کہ وہ خود ہی ایک سال قبل ۲۳/ اپریل ۱۹۰۴ ء کو اپنے اخبار "کر زن گزٹ" میں لکھ چکے تھے " جو جدید مسائل مرزا صاحب اب تک پیش کر چکے ہیں۔ہمیں اس سے کچھ بحث نہیں اس لئے کہ ہم ان مسائل کو بہت معمولی سمجھتے ہیں۔اگر چہ مرزا صاحب کے حریفوں نے بہت سی ضخیم ضخیم کتابیں ان مسائل میں لکھ دی ہیں اور مرزا صاحب سے کئی سال تک ان کی بابت تو تو میں میں رہی مگر ہمارے خیال میں وہ باتیں ایسی نہیں ہیں جن کا ذکر بھی کیا جاوے۔ہم نہایت فراخ دلی اور خندہ پیشانی سے ان معاملات میں مرزا صاحب ہی کو ڈگری دیتے ہیں۔" نیز لکھا۔" تیسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو مثیل مسیح کہتے ہیں۔اچھا ہم تسلیم کرتے ہیں آپ مثیل مسیح ہی سہی جب کہ حضور انور ﷺ کی مرحوم امت کا ہر فرد مثل انبیاء بنی اسرائیل کے ہے اور ہو سکتا ہے پھر اگر مرزا صاحب مثیل مسیح ہو گئے تو کیا غضب ہو گیا ہمیں اس کی تردید کی کیا ضرورت ہے۔"